وزارتِ خارجہ کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار جمعرات کے روز کابل کا ایک روزہ دورہ کریں گے۔
وزیر خارجہ کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی ہو گا جس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی/افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی، اور وزارتِ ریلوے کے سیکرٹری شامل ہوں گے۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیرِ اعظم کابل میں ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یو اے پی ریلوے منصوبے کا مقصد ازبکستان کو افغانستان کے راستے پاکستان سے بذریعہ ریل جوڑنا ہے، تاکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کی سہولت فراہم کر کے علاقائی استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ کا یہ دورہ یو اے پی ریلوے منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے پاکستان کی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔ کابل میں تینوں شریک ممالک کے درمیان مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط اس منصوبے پر عملدرآمد کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔
اپنے دورہ کابل کے دوران، اسحاق ڈار افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے اور قائم مقام افغان وزیر اعظم سے بھی ملاقات میں دوطرفہ امور پر بات چیت اور علاقائی و عالمی حالات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ مجوزہ 573 کلومیٹر طویل ریلوے لائن، جو تاشقند سے کابل ہوتے ہوئے پشاور اور وہاں سے گوادر و کراچی بندرگاہوں تک جائے گی، 4.8 ارب ڈالر لاگت کا منصوبہ ہے۔ یہ وسطی ایشیا کی خشکی سے گھرے معیشتوں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والا ایک اہم معاشی راستہ بن سکتا ہے، جس سے علاقائی رابطے مضبوط ہوں گے اور اقتصادی تعاون میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔


Comments
Comments are closed.