سینیٹ انتخابات: پیپلز پارٹی کی جے یو آئی (ف) کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل پر غور
خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر سیاسی مرکزِ نگاہ بن گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے قبل ان کی حمایت حاصل کی جاسکے۔
پی ٹی وی نیوز کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی شریک تھے جب کہ گفتگو کا محور آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا تھا۔
ملاقات میں شرکت کرنے والی نمایاں سیاسی شخصیات میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ، سید طاہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، سابق ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی، جے یو آئی ف خیبر پختونخوا کے رہنما مولانا لطف الرحمٰن، اور صاحبزادہ اسجد محمود شامل تھے۔
اہم پیش رفت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں، دو خواتین کی مخصوص نشستوں اور دو ٹیکنوکریٹس/علماء کے لیے مخصوص نشستوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں ۔ ان نشستوں پر پولنگ 21 جولائی 2025 کو خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت میں ہوگی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2 اپریل 2024 کو شیڈول سینیٹ انتخابات اس وقت ملتوی کر دیے تھے جب اسپیکر نے مخصوص نشستوں پر منتخب صوبائی اراکین کو حلف دلانے سے انکار کر دیا، اور انتخابی کالج کی تکمیل نہ ہونے کو بنیاد بنایا گیا۔
مزید برآں الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی خالی نشست پر انتخاب کے لیے تفصیلی شیڈول جاری کردیا ہے۔ شیڈول کے مطابق 9 جولائی کو عوامی نوٹس جاری کیے گئے، جب کہ 10 اور 11 جولائی کو نامزدگی فارم جمع کرائے گئے۔ نامزدگی فارموں کی جانچ پڑتال 16 جولائی کو ہو گی اور اس نشست پر پولنگ 31 جولائی کو منعقد ہو گی۔
ادھر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مجموعی سیاسی صورتحال، صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال، کرپشن سے متعلق خدشات، صوبائی حقوق کے معاملات اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی پر بھی غور کیا گیا۔
رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں موجودہ سیاسی و انتظامی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا، بالخصوص گورننس کے مسائل سے نمٹنے اور صوبے میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔


Comments
Comments are closed.