پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائزمرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یا آگاہی سیشنز کے بغیر ہی ای-انوائسنگ نظام نافذ کردیا جسے انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک ڈراونا خواب قرار دیا ہے۔
پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے نئے نظام کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی آگاہی سیشن منعقد نہیں کیے گئے جس کے باعث متعدد ٹیکس دہندگان الجھن اور تیاری کے فقدان کا شکار ہیں۔
نتیجتاً متعدد کاروبار مختصر مدت میں نئے ای-انوائسنگ تقاضوں پر عملدرآمد میں مشکلات کا شکار ہیں۔ سلیم والی محمد نے زور دیا کہ ایسے کسی بھی نظام کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہایت ضروری ہے تاکہ تمام تکنیکی و قانونی مسائل کا بروقت حل نکالا جاسکے۔
سلیم ولی محمد کے مطابق ای-انوائسنگ نظام یکم جولائی سے کارپوریٹ اداروں کے لیے نافذ العمل ہوچکا ہے جب کہ غیر کارپوریٹ شعبے کیلئے اس کا نفاذ یکم اگست سے متوقع ہے،تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ نظام یکطرفہ طور پر نافذ کیا جارہا ہے کیونکہ نہ تو کاروباری برادری سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی ان کے تحفظات کو تسلیم کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری میں تشویش بڑھتی جارہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اب سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا عمل بھی مزید پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کاروبار کو ان تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ کاروباری شعبے سے تعاون کرے اور ان کے لیے مناسب وقت فراہم کرے تاکہ وہ خود کو ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے اچانک فیصلے، مناسب تیاری کے بغیر، کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
پی سی ڈی ایم اے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے اور ان کی شکایات کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے نہ صرف ٹیکس وصولی متاثر ہوگی بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔


Comments
Comments are closed.