وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی فوری اصلاحات کا حکم دیا ہے تاکہ ملک کی تجارتی پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو مرکزی ہدف بنایا جا سکے۔
یہ ہدایت وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں دی گئی جس میں کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔
وزیرِ اعظم نے ٹیرف کمیشن کی مکمل تنظیمِ نو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ کمیشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے دوبارہ منظم کیا جائے تاکہ یہ اپنا مینڈیٹ مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ملکی کاروباری حالات اور عالمی تجارتی رجحانات پر مبنی ڈیٹا کو مؤثر انداز میں جمع اور تجزیہ کر سکے۔
شہباز شریف نے کمیشن کی حالیہ کارکردگی کا تھرڈ پارٹی جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ادارے کو ملک کی نئی ٹیرف پالیسی کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔
یہ فیصلہ وفاقی بجٹ 26-2025 کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران ملک کے مجموعی ٹیرف نظام کو چار فیصد سے زائد کم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
نئی قومی ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کی جائیں اور ساتھ ہی کسٹمز ایکٹ 1969 کے شیڈول فائیو کو بتدریج ختم کیا جائے۔
نظرِ ثانی شدہ ٹیرف ڈھانچے میں زیرو سے لے کر زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک چار ڈیوٹی سلیب شامل ہوں گی۔
نیشنل ٹیرف کمیشن ملک کی تجارتی پالیسی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 25-2024 کے مطابق آئندہ مالی سال میں کسٹمز ڈیوٹیز سے حاصل ہونے والی آمدن کل ٹیکس محصولات کا تقریباً 6 فیصد ہو گی۔
اگرچہ یہ حصہ نسبتاً کم ہے، لیکن یہ سیاسی طور پر حساس ہے، خاص طور پر مقامی صنعتوں کے لیے جو سستے درآمدی سامان سے تحفظ چاہتی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ کمیشن کی اپیلیٹ ٹریبونل کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمیشن کے اندر ایک خودمختار تحقیقی صلاحیت قائم کی جائے تاکہ مقامی صنعتوں کو درپیش چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.