BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.08%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.51 Decreased By ▼ -0.94 (-0.49%)
FABL 94.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.91 Increased By ▲ 0.81 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.41 Decreased By ▼ -0.22 (-0.62%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.50 Decreased By ▼ -3.41 (-1.5%)
PRL 92.21 Decreased By ▼ -0.81 (-0.87%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.71 Decreased By ▼ -0.10 (-0.42%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

پاکستان کی پہلی قومی مشاورت برائے ابتدائی قومی ماہی گیری و آبی کاشتکاری پالیسی 2025–2035 کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے وابستہ کلیدی اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تاکہ ایک جامع، ہم آہنگ اور شمولیتی قومی حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے۔

یہ مشاورت وزارت بحری امور کے زیرِ اہتمام اور خوراک و زراعت کے عالمی ادارے (ایف اے او) کی تکنیکی معاونت سے منعقد ہوئی، جس سے وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے خطاب کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اگرچہ پاکستان سمندری اور داخلی آبی وسائل سے مالامال ہے، مگر ماہی گیری اور آبی کاشتکاری کا شعبہ طویل عرصے سے نظرانداز اور غیر ترقی یافتہ رہا ہے۔ اس وقت یہ شعبہ قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں محض 0.5 فیصد سے بھی کم حصہ ڈال رہا ہے اور مقامی و برآمدی منڈیوں سے محدود فوائد حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ نئی پالیسی کا ایک اہم مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت بحری امور قومی سطح پر بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل اور سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافے جیسے اہم معاملات میں قیادت کا کردار ادا کرتی رہے گی۔

وزیر نے مزید کہا کہ نئی پالیسی ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے موافقت، بچوں کے تحفظ، صنفی شمولیت، محنت کشوں کے حقوق، اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے جامع اور بین الجہتی موضوعات پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔

انہوں نے پالیسی کو ایک بنیادی اور ارتقائی فریم ورک قرار دیا، جس کی کامیابی مستقل عزم، مؤثر روابط اور ملک بھر کے اسٹیک ہولڈرز کی فعال شراکت سے مشروط ہے۔ ان کے بقول یہ پالیسی صرف وزارت کے لیے نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں، مقامی کمیونٹیوں اور معیشت سے وابستہ افراد کے لیے بلیو اکانومی کے مستقبل کی جانب ایک سنگِ میل ہے۔

سیکریٹری بحری امور سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے طویل ساحلی پٹی کے باوجود ماہی گیری کا شعبہ اپنی مکمل صلاحیت سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے اس شعبے کو روزگار کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا، تاہم تسلیم کیا کہ اسے غیر مؤثر نظم و نسق اور حد سے زیادہ شکار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسی کی بدولت بہتر نظم و نسق اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے یہ شعبہ 10 ارب ڈالر تک کی معاشی قدر پیدا کر سکتا ہے۔

ایف اے او کی نمائندہ فلورنس رولے نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی کی تیاری کے دوران ملک گیر مشاورتی سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جنہوں نے اس عمل کو شمولیتی اور مربوط بنایا۔ انہوں نے بلوچستان کی پیش قدم ماہی گیری پالیسی کو ایک بہترین مثال قرار دیا اور کہا کہ پائیدار طریقے عالمی موسمیاتی فنڈنگ کو متوجہ کر سکتے ہیں۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرا بی نے کہا کہ پالیسی کو بلند ہدف اور عملی حقیقتوں کے درمیان توازن پر مبنی ہونا چاہیے کیونکہ ماہی گیری ایک موسمیاتی لحاظ سے حساس اور علاقائی تنوع رکھنے والا شعبہ ہے۔

ایف اے او کے سینئر پالیسی ماہر ڈاکٹر کنور محمد جاوید اقبال نے پالیسی کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مالی مراعات، ماحولیاتی تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانا، محفوظ کام کے ماحول، روزگار کے مواقع، کاروباری فروغ اور آلودگی پر قابو پانے جیسے عناصر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی صوبائی مشاورت سے شروع ہونے والے ایک تدریجی اور شمولیتی عمل کے ذریعے تیار کی گئی، جس کی بنیاد ذمہ دارانہ وسائل کا انتظام اور مؤثر حکمرانی پر رکھی گئی ہے تاکہ ماہی گیری کے شعبے میں پائیداری اور لچک کو یقینی بنایا جا سکے۔

ورکشاپ میں متعدد پینل مباحثے بھی شامل تھے، جن میں ماہی گیری و آبی کاشتکاری میں حکمرانی، سرمایہ کاری کے مراعات، ترقیاتی حکمت عملیاں، اور عملدرآمدی فریم ورک پر گفتگو کی گئی۔

تقریب سے ماہی گیر اتحاد گوادر کے یونس انور، آر سی ڈی سی گوادر کے ناصر رحیم سہرابی، اور ایکوا کلچر فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر سید دایم شاہ نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ میں بلوچستان اور سندھ کی ماہی گیری صنعت سے وابستہ نمائندوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں نے بھی شرکت کی۔

Comments

Comments are closed.