بازار اور کینو کا انضمام: پاکستان کا پہلا مربوط کامرس و فِن ٹیک پلیٹ فارم قائم
- بازار کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر یہ طریقہ کار ای کامرس کمپنیوں کے لیے کامیاب ثابت ہو چکا ہے — مثال کے طور پر چین میں علی بابا کی جانب سے علی پے کا قیام۔
بازار ٹیکنالوجیز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ادائیگیوں کی کمپنی کِینو (Keenu) کو ایک غیر اعلانیہ رقم کے عوض حاصل کر لیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کسی بڑی ای کامرس کمپنی نے ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر اپنے اندر ضم کیا ہے — یہ ایک اسٹریٹجک قدم ہے جو ملک بھر کے لاکھوں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے انقلابی امکانات رکھتا ہے۔
بازار کے شریک بانی سعد جانگڑا نے کہا کہ یہ صرف حصول نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہم آہنگی ہے جو پاکستان میں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کو سہولت دینے کے تصور کو ازسرنو متعین کرتی ہے۔
ہم نے بازار کو ملک کا سب سے قابلِ اعتماد کامرس پارٹنر بنانے کے لیے قائم کیا۔ اب، جب کہ کینو کا ادائیگیوں کا نظام ہماری ٹیکنالوجی میں شامل ہو رہا ہے، ہم ملک کا پہلا مکمل طور پر مربوط کامرس-فِن ٹیک پلیٹ فارم بنا رہے ہیں — جو ہمارے صارفین کے لیے سادگی، یکجہتی اور بااختیاری لائے گا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چار ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے بازار ٹیکنالوجیز کو ویِمسول پرائیویٹ لمیٹڈ (جو کہ کینو چلاتی ہے) کے 100 فیصد حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔
بدھ کے روز جاری بیان میں وضاحت کی گئی کہ اس حصول کے بعد صارفین اور کاروبار ایک ہی مربوط ای پلیٹ فارم کے اندر ادائیگی کر سکیں گے — پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔
عالمی سطح پر یہ ماڈل کامیاب ثابت ہوا ہے جیسا کہ علی بابا کا علی پے چین میں، مرکادو لیبرے کا مرکادو پیگو جنوبی امریکہ میں، اور فلپ کارٹ کا فون پے بھارت میں حاصل کرنا — یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ کامرس اور ادائیگیوں کا انضمام کس طرح صارف کے لیے مکمل، ہموار تجربہ فراہم کرتا ہے۔
یہ حصول پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں بڑھتی ہوئی پختگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں فِن ٹیک اور ای کامرس کا انضمام ہو رہا ہے۔
2020 میں قائم ہونے والی بازار ٹیکنالوجیز کے پاس اپنی سپلائی چین انفراسٹرکچر ہے جو تقریباً 10 شہروں میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی مجموعی ادارہ جاتی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر سے زائد ہے، جس کی پشت پناہی ڈریگونیر انویسٹمنٹ گروپ، ٹائیگر گلوبل اور انڈس ویلی کیپیٹل جیسے اداروں نے کی۔
دوسری طرف 2013 میں لانچ ہونے والی کینو ایک مقامی ڈیجیٹل پیمنٹس پلیٹ فارم ہے، جو اپنے پی او یس ٹرمینلز کے ذریعے سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں کو ممکن بناتی ہے اور 150 سے زائد شہروں میں موجودگی رکھتی ہے۔ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بطور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن (ای ایم آئی) مکمل لائسنس دیا ہے۔
کینو کے سی ای او سعد نیازی نے کہا: یہ شراکت داری کینو کے مشن میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم نے گزشتہ ایک دہائی پاکستان میں ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر ڈیجیٹائز کرنے میں صرف کی ہے۔ بازار کے ساتھ مل کر، ہم نہ صرف اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں بلکہ ایک کیش لیس، ڈیجیٹل اور مربوط پاکستان کی جانب پیش رفت کو تیز تر کر رہے ہیں۔
وقت کی اہمیت:
دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ انتہائی اسٹریٹجک وقت پر کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 190 ملین سے زائد موبائل کنیکشنز، اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال، اور ایک نوجوان، ڈیجیٹل نسل کے ہوتے ہوئے، مارکیٹ ایک مربوط ٹیک حل کے لیے تیار ہے — تاہم مالی شمولیت اب بھی ایک بڑا خلا ہے۔
البتہ یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فنانس ایکٹ 2025 کے تحت کورئیر سروسز پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کے بعد پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
بازار کے ترجمان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اگرچہ تمام کاروباروں کی دستاویز کاری بڑھانے کے لیے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں، تاہم اب بھی کئی ایسے ریگولیٹری عوامل موجود ہیں جو ملک میں تجارت اور ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
طویل مدت میں، بازار اور کینو پرامید ہیں کہ مارکیٹ میں مواقع بڑھتے رہیں گے۔
یہ حصول اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری سے مکمل ہوا ہے، اور دونوں کمپنیاں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر کام جاری رکھیں گی — جبکہ اسٹریٹجک سطح پر ہم آہنگ ہوں گی۔
یہ اقدام قومی پیمنٹ اسٹریٹیجی کے تحت اسٹیٹ بینک کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے جو ریٹیل پیمنٹس مارکیٹ کو نان بینکس کے لیے کھولنے اور ویژن 2028 کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے اختراعی پروڈکٹس کو فروغ دینے اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل کے عزم کی وضاحت کرتا ہے۔


Comments
Comments are closed.