BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.71%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.24 (0.71%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.81 Increased By ▲ 4.84 (2.51%)
FABL 89.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 53.80 Increased By ▲ 0.97 (1.84%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.95 Increased By ▲ 0.98 (5.17%)
HBL 286.00 Increased By ▲ 0.50 (0.18%)
HUBC 215.78 Increased By ▲ 1.40 (0.65%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 27.59 Decreased By ▼ -0.30 (-1.08%)
MLCF 87.90 Increased By ▲ 1.39 (1.61%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 273.90 Increased By ▲ 7.84 (2.95%)
PPL 233.49 Increased By ▲ 5.31 (2.33%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.70 Increased By ▲ 0.52 (0.52%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

چین کی جانب سے امریکہ کو اینٹمونی، گیلیم اور جرمانیئم کی برآمدات پر دسمبر 2023 میں عائد پابندی کے باوجود، امریکہ میں تھائی لینڈ اور میکسیکو کے ذریعے بڑی مقدار میں اینٹمونی درآمد کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین کسٹمز اور شپنگ ریکارڈز سے معلوم ہوا ہے کہ کم از کم ایک چینی ملکیتی کمپنی اس تجارت میں شامل ہے۔

چین دنیا بھر میں ان اہم معدنیات کی فراہمی پر غلبہ رکھتا ہے، جنہیں بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی درآمدات کے نئے تجارتی راستے ظاہر کرتے ہیں کہ اہم معدنیات کے حصول کیلئے عالمی دوڑ شدت اختیار کر چکی ہے اور چین کو اپنی برآمدی پابندیوں پر عملدرآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ دسمبر 2023 سے اپریل 2024 کے دوران امریکہ نے تھائی لینڈ اور میکسیکو سے 3,834 میٹرک ٹن اینٹمونی آکسائیڈ درآمد کی، جو گزشتہ تین سالوں کی مجموعی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔ ادھر، چینی کسٹمز کے مطابق رواں سال تھائی لینڈ اور میکسیکو چین سے اینٹمونی کی سب سے بڑی منڈیوں میں شامل ہو چکے ہیں، حالانکہ 2023 میں ان کا نام تک پہلے 10 میں شامل نہیں تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ تھائی لینڈ اور میکسیکو میں صرف ایک ایک اینٹمونی اسمیلٹر موجود ہے اور ان ممالک میں اس دھات کی کوئی نمایاں کان کنی نہیں کی جاتی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خام مال اصل میں چین سے ہی آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکا میں پابندی کے باوجود چینی مصنوعات درآمد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹیکساس کی کمپنی ”یانگسن اور ایسن“ تھائی لینڈ کی چینی ذیلی کمپنی ”تھائی یونی پیٹ انڈسٹریز“ سے بڑی مقدار میں اینٹمونی خرید رہی ہے۔ دسمبر 2023 سے مئی 2024 کے دوران یونپیٹ نے امریکا کو 3,366 ٹن اینٹمونی مصنوعات بھیجیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 27 گنا زیادہ ہیں۔

چینی وزارت تجارت نے مئی میں تسلیم کیا کہ بیرونی ادارے اندرونی عناصر سے ملی بھگت کرکے پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ چین نے حال ہی میں اسمگلنگ اور غیرقانونی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس کے تحت جرمانے، برآمد پر پابندیاں اور سخت قانونی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین نے برآمدی لائسنسنگ قوانین لاگو کر رکھے ہیں، لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد کرنا اصل چیلنج ہے۔ قانونی ماہر جیمز شیاؤ کے مطابق، چینی کمپنیاں اگر کسی تیسرے ملک کے ذریعے مصنوعات امریکہ بھیجیں اور خریدار کی مکمل جانچ نہ کریں، تو انہیں سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

گیلیم، جرمانیئم اور اینٹمونی کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث، چین سے بالواسطہ برآمدات کرنے والوں کو بیرون ملک منافع بخش مواقع میسر ہیں، اور بہت سی کمپنیاں پابندیوں کے باوجود خطرہ مول لے کر یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال چین کی برآمدی پالیسیوں کی ساکھ اور ان کے مؤثر نفاذ کے بارے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.