BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

چین کی جانب سے امریکہ کو اینٹمونی، گیلیم اور جرمانیئم کی برآمدات پر دسمبر 2023 میں عائد پابندی کے باوجود، امریکہ میں تھائی لینڈ اور میکسیکو کے ذریعے بڑی مقدار میں اینٹمونی درآمد کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین کسٹمز اور شپنگ ریکارڈز سے معلوم ہوا ہے کہ کم از کم ایک چینی ملکیتی کمپنی اس تجارت میں شامل ہے۔

چین دنیا بھر میں ان اہم معدنیات کی فراہمی پر غلبہ رکھتا ہے، جنہیں بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی درآمدات کے نئے تجارتی راستے ظاہر کرتے ہیں کہ اہم معدنیات کے حصول کیلئے عالمی دوڑ شدت اختیار کر چکی ہے اور چین کو اپنی برآمدی پابندیوں پر عملدرآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ دسمبر 2023 سے اپریل 2024 کے دوران امریکہ نے تھائی لینڈ اور میکسیکو سے 3,834 میٹرک ٹن اینٹمونی آکسائیڈ درآمد کی، جو گزشتہ تین سالوں کی مجموعی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔ ادھر، چینی کسٹمز کے مطابق رواں سال تھائی لینڈ اور میکسیکو چین سے اینٹمونی کی سب سے بڑی منڈیوں میں شامل ہو چکے ہیں، حالانکہ 2023 میں ان کا نام تک پہلے 10 میں شامل نہیں تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ تھائی لینڈ اور میکسیکو میں صرف ایک ایک اینٹمونی اسمیلٹر موجود ہے اور ان ممالک میں اس دھات کی کوئی نمایاں کان کنی نہیں کی جاتی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خام مال اصل میں چین سے ہی آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکا میں پابندی کے باوجود چینی مصنوعات درآمد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹیکساس کی کمپنی ”یانگسن اور ایسن“ تھائی لینڈ کی چینی ذیلی کمپنی ”تھائی یونی پیٹ انڈسٹریز“ سے بڑی مقدار میں اینٹمونی خرید رہی ہے۔ دسمبر 2023 سے مئی 2024 کے دوران یونپیٹ نے امریکا کو 3,366 ٹن اینٹمونی مصنوعات بھیجیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 27 گنا زیادہ ہیں۔

چینی وزارت تجارت نے مئی میں تسلیم کیا کہ بیرونی ادارے اندرونی عناصر سے ملی بھگت کرکے پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ چین نے حال ہی میں اسمگلنگ اور غیرقانونی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس کے تحت جرمانے، برآمد پر پابندیاں اور سخت قانونی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین نے برآمدی لائسنسنگ قوانین لاگو کر رکھے ہیں، لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد کرنا اصل چیلنج ہے۔ قانونی ماہر جیمز شیاؤ کے مطابق، چینی کمپنیاں اگر کسی تیسرے ملک کے ذریعے مصنوعات امریکہ بھیجیں اور خریدار کی مکمل جانچ نہ کریں، تو انہیں سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

گیلیم، جرمانیئم اور اینٹمونی کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث، چین سے بالواسطہ برآمدات کرنے والوں کو بیرون ملک منافع بخش مواقع میسر ہیں، اور بہت سی کمپنیاں پابندیوں کے باوجود خطرہ مول لے کر یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال چین کی برآمدی پالیسیوں کی ساکھ اور ان کے مؤثر نفاذ کے بارے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.