ٹرمپ کا حماس سے 60 روزہ جنگ بندی کی آخری تجویز تسلیم کرنے پر زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی کے لیے اُن کی جانب سے پیش کی گئی آخری تجویز کو تسلیم کرے جو قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندگان کی اسرائیلی حکام کے ساتھ غزہ کے معاملے پر ایک طویل اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے۔
انہوں نے اپنے نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور نائب صدر جے ڈی وینس کی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سینئر مشیر رون ڈرمر سے ملاقات طے تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل 60 دن کی جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کی شرائط پر رضامند ہو گیا ہے جس دوران ہم تمام فریقین کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر اور مصر کے نمائندے یہ حتمی تجویز حماس کو پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ کی بہتری کے لیے حماس اس معاہدے کو قبول کرے گا کیونکہ (حالات) بہتر نہیں ہوں گے، مزید بگڑیں گے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ وہ پیر کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کے تحت باقی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب حماس کو غیر مسلح اور تحلیل کیا جائے۔ تاہم، حماس نے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
غزہ میں جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔
دونوں فریقین نے اپنی سخت گیر پوزیشنز سے پیچھے ہٹنے کی کوئی خاص آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔
امریکہ نے 60 دن کی جنگ بندی کی تجویز دی ہے جس کے تحت آدھے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں اور دیگر فلسطینیوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔


Comments
Comments are closed.