قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (این ڈی ایم اے) نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان میں مون سون کے حالیہ موسم کے آغاز سے اب تک شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے باعث 24 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 12 بچے بھی شامل ہیں۔
صوبائی ادارہ برائے قدرتی آفات (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ بدھ سے اب تک صوبے میں کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 8 بچے شامل تھے، جو شدید بارشوں کے دوران مکانات کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے جان سے گئے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اچانک سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات میں مزید 11 افراد جان سے گئے، جن میں چار بچے اور تین خواتین شامل تھیں جبکہ چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ان میں سے 10 اموات شمال مغربی وادیٔ سوات میں ہوئیں، جہاں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک تیز رفتار سیلابی ریلہ دریا کے کنارے موجود کئی خاندانوں کے افراد کو بہا لے گیا۔
صوبائی ادارہ برائے قدرتی آفات (پی ڈی ایم اے) نے اطلاع دی ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب کے باعث 56 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے چھ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
قومی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں اور ممکنہ طور پر اچانک سیلاب کا خطرہ منگل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان میں شدید طوفانی موسم کے باعث کم از کم 32 افراد جاں بحق ہوئے۔ جنوبی ایشیائی ملک نے رواں سال بہار کے موسم میں متعدد شدید موسمی حالات کا سامنا کیا ہے، جن میں طاقتور ژالہ باری بھی شامل تھی۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں اور اس کے 24 کروڑ عوام کو تیزی سے بڑھتے ہوئے شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔


Comments
Comments are closed.