پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ روز 6,000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے بعد بدھ کو بھی خریداری کا رجحان جاری رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
تجارتی سیشن کے دوران مثبت رجحان برقرار رہا جس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو کاروباری دن کی بلند ترین سطح 123,256.55 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 122,761.64 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جو 515.01 پوائنٹس یا 0.42 فیصد کے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اہم شعبوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا جن میں آٹو موبائل اسمبلیز، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز اور ریفائنریز شامل ہیں۔ نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، ماری پٹرولیم کمپنی ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ، سدرن سروسز گیس کمپنی، میٹرو پولیٹن بینک لمیٹڈ ، نیشنل بینک آف پاکستان اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے حصص مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے ۔
یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی دیکھی گئی جو بنیادی طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
گزشتہ روز کے ایس ای-100 انڈیکس 6,079 پوائنٹس یا 5.23 فیصد کے تاریخی اضافے سے 122,246 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ پوائنٹس کے لحاظ سے ایک دن میں دوسری سب سے بڑی بڑھوتری تھی۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاکس مستحکم رہے کیونکہ خام تیل کئی ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جب کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیا اگرچہ کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
امریکی ڈالر یورو کے مقابلے میں تقریباً 4 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
اب تک غیر مستحکم جنگ بندی قائم ہے، اگرچہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کا بھرپور جواب دے گا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دشمنی کے خاتمے کے اعلان کے بعد کیے گئے تھے۔
مزید یہ کہ ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق، امریکی فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی بلکہ صرف چند ماہ کے لیے پیچھے چلی گئی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پہلے بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے۔
جاپان کا نِکئی اور آسٹریلیا کا اسٹاک بینچ مارک مستحکم رہا جب کہ تائیوان کا انڈیکس 1 فیصد بڑھ گیا۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.6 فیصد بڑھا جبکہ چین کے مین لینڈ کے بلیو چِپ شیئرز میں 0.1 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
ایم ایس سی آئی کے عالمی اسٹاکس کا انڈیکس ایک رات قبل ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد مستحکم رہا۔


Comments
Comments are closed.