BR100 Decreased By (-1.78%)
BR30 Decreased By (-2.17%)
KSE100 Decreased By (-1.48%)
KSE30 Decreased By (-1.65%)
BAFL 56.79 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 26.83 Decreased By ▼ -0.15 (-0.56%)
BOP 33.00 Decreased By ▼ -0.75 (-2.22%)
CNERGY 10.13 Increased By ▲ 0.25 (2.53%)
DFML 17.75 Decreased By ▼ -0.25 (-1.39%)
DGKC 196.90 Decreased By ▼ -8.03 (-3.92%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.20 (-1.2%)
FCCL 51.46 Decreased By ▼ -1.63 (-3.07%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.32 (-1.94%)
GGL 25.09 Increased By ▲ 0.25 (1.01%)
HBL 296.95 Decreased By ▼ -2.87 (-0.96%)
HUBC 214.52 Decreased By ▼ -2.56 (-1.18%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.16 (-1.51%)
KEL 7.08 Decreased By ▼ -0.14 (-1.94%)
LOTCHEM 29.23 Decreased By ▼ -0.08 (-0.27%)
MLCF 88.95 Decreased By ▼ -3.21 (-3.48%)
OGDC 312.65 Decreased By ▼ -3.64 (-1.15%)
PAEL 41.01 Decreased By ▼ -1.03 (-2.45%)
PIBTL 15.98 Decreased By ▼ -0.43 (-2.62%)
PIOC 284.00 Decreased By ▼ -16.24 (-5.41%)
PPL 213.50 Decreased By ▼ -3.34 (-1.54%)
PRL 52.60 Increased By ▲ 1.74 (3.42%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -2.72 (-2.67%)
SSGC 25.30 Decreased By ▼ -1.68 (-6.23%)
TELE 8.33 Decreased By ▼ -0.32 (-3.7%)
TPLP 13.25 Decreased By ▼ -0.14 (-1.05%)
TRG 57.40 Decreased By ▼ -1.86 (-3.14%)
UNITY 9.97 Decreased By ▼ -0.33 (-3.2%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

امریکی فضائیہ کے B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار طیارے میں بیٹھنے سے قبل، جس کے مشن 40 گھنٹوں سے زائد طویل ہوسکتے ہیں، پائلٹس کئی ہفتوں پر محیط تیاری کے مرحلے سے گزرتے ہیں — جس میں صرف پرواز کے منصوبے ہی نہیں بلکہ خوراک کا انتخاب بھی شامل ہوتا ہے۔

بی-2 جو کہ نار تھروپ گرومن کمپنی کا تیار کردہ 2 ارب ڈالر مالیت کا فلائنگ وِنگ طیارہ ہے نے ہفتہ کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ طیارہ دو رکنی عملے سے غیر معمولی جسمانی برداشت کا تقاضا کرتا ہے۔

اس سفر کی تیاری کا آغاز اس فہم سے ہوتا ہے کہ خوراک نہ صرف الرٹ رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ دو دن تک جاری رہنے والی بین الاقوامی پروازوں کے دوران نظامِ ہاضمہ کو بھی متوازن رکھتی ہے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسٹیو بیشم، جنہوں نے 9 برس تک بی-2 طیارہ اُڑایا اور 2024 میں یو ایس یورپین کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر ریٹائر ہوئے نے کہا کہ ہم نیند سے متعلق مطالعہ کرتے ہیں، باقاعدہ غذائی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ ہر پائلٹ یہ سیکھ سکے کہ کون سی چیزیں ہمیں بیدار رکھتی ہیں اور کون سی ہمیں نیند میں مدد دیتی ہیں۔

پائلٹس کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء کے مضمرات سے آگاہ رہیں، کیونکہ کچھ غذائیں ہاضمے کی رفتار کو کم یا تیز کرسکتی ہیں — اور یہ چیز ایک ایسے طیارے میں نہایت اہم ہے جس میں صرف ایک کیمیکل ٹوائلٹ موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ جتنا پھیکا ہوسکے۔ بشم کا پسندیدہ کھانا: گندم کی بریڈ پر ترکیہ سینڈوچ، بغیر پنیر کے۔

172 فٹ (52.4 میٹر) کے وِنگ اسپین اور اسٹیلتھ ڈیزائن کے ساتھ، بی-2 طیارہ بغیر ایندھن بھرے 6 ہزار ناٹیکل میل تک پرواز کر سکتا ہے لیکن زیادہ تر مشنوں میں متعدد بار فضائی ری فیولنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔

جیسے جیسے تھکن بڑھتی ہے، یہ عمل مزید مشکل ہوتا جاتا ہے۔

ایندھن کی ترسیل بلائنڈ انداز میں کی جاتی ہے — بی-2 کے پائلٹس 16 فٹ پیچھے اپنی نشستوں کے بالکل اوپر سے جُڑنے والے ٹینکر کے بوم کو دیکھ نہیں سکتے۔ اس کے بجائے وہ ٹینکر کی لائٹس اور یاد رکھے گئے حوالہ جات پر انحصار کرتے ہیں۔رات کے وقت، خاص طور پر چاندنی سے محروم پروازوں میں، یہ کام لیفٹیننٹ جنرل بشام کے مطابق ”فطری طور پر خطرناک“ بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ہوتے ہیں تو ایڈرینالین آپ کو متحرک رکھتا ہے۔ لیکن وہ ایڈرینالین ختم ہو جاتا ہے۔ پھر آپ تھوڑا آرام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اُس کے بعد بھی ایک آخری ری فیولنگ باقی ہوتی ہے۔ بی-2 کے کاک پٹ میں نشستوں کے پیچھے ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جہاں پائلٹس ایک فولڈنگ بیڈ پر لیٹ سکتے ہیں۔

اپنے جدید ترین ڈیزائن کے باوجود — جو اسے ریڈار، انفراریڈ اور آواز کی لہروں سے بچنے کے قابل بناتا ہے — بی-2 بمبار طیارے کی کامیابی کا انحصار پائلٹس کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔

اس طیارے کا دو رکنی عملہ پرانے بمبار طیاروں جیسے B-1B اور B-52 میں درکار بڑی ٹیموں کی جگہ لیتا ہے، جس کی وجہ سے ہر پائلٹ پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

بی-2 بمبار طیارے کا فلائی بائی وائر نظام — جو مکمل طور پر کمپیوٹر کنٹرولز پر انحصار کرتا ہے — 1989 میں اس کی پہلی پرواز کے بعد سے کافی ترقی کر چکا ہے۔ بشام کے مطابق، ابتدائی سافٹ ویئر پائلٹ کے احکامات کے مقابلے میں تاخیر کا شکار ہوتا تھا، جس سے فضائی ری فیولنگ کا عمل مزید مشکل ہو جاتا تھا۔ بعد ازاں ہونے والی اپڈیٹس نے سسٹم کی ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنایا، تاہم بلندی پر قریبی تشکیل میں پرواز اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

1999 میں آپریشن الائیڈ فورس کے دوران، امریکی فضائیہ کے مطابق، بی-2 بمبار طیاروں نے میزوری سے کوسوو تک 31 گھنٹے طویل مشن انجام دیے اور ابتدائی آٹھ ہفتوں میں 33 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا۔

عراق میں، ان طیاروں نے 49 مشنز کے دوران 15 لاکھ پاؤنڈ سے زائد گولہ بارود گرایا۔

فضائیہ کا منصوبہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں کم از کم 100 بی-21 ریڈر طیاروں کے ذریعے بی-2 اور بی-1 بیڑے کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے۔

Comments

Comments are closed.