BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایوانِ بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے 13 جون کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا جو انٹرویو حالیہ قرار دے کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، وہ دراصل 2011 کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے گمراہ کن مواد سے عوام میں کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے اور وزارتِ خارجہ اس مواد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد سعودی عرب میں پھنسے 20,000 ایرانی زائرین کی وطن واپسی کے لیے پاکستان نے کراچی ایئرپورٹ پر ”ویزا آن آرائیول“ کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ بحفاظت ایران واپس جا سکیں۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ 13 جون کو ایران نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کی فضائی حدود بند ہو چکی ہیں، اور پوچھا کہ کیا پاکستان ان کی مدد کر سکتا ہے۔ ہم نے فوری طور پر جواب دیا کہ ہم ایرانی زائرین کو کراچی ایئرپورٹ پر ویزہ فراہم کریں گے، اور انہیں سڑک یا ہوائی شٹل سروس کے ذریعے ایران روانہ کیا جائے گا، جو بھی طریقہ ایران کے لیے موزوں ہو۔

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اس کے بعد اعلان کیا کہ ایرانی زائرین ان کے مہمان ہیں اور وہ ایران میں صورتحال بہتر ہونے تک سعودی عرب میں قیام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ خارجہ میں ایک کرائسس مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے فعال ہے تاکہ ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے، اور تہران میں پاکستان کے سفارتخانے میں ہاٹ لائن بھی فعال ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اب تک 251 پاکستانی طلباء کو ایران سے نکال کر کوئٹہ ایئرپورٹ پر پہنچا دیا گیا ہے، جب کہ 500 سے زائد پاکستانی زائرین کی واپسی کا عمل جاری ہے، جن میں 300 سے زائد فضائی سفر سے ایران جانے والے زائرین اور عراق جانے والے 209 زمینی زائرین شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.