اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ماہرین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے لیے 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف قابلِ حصول ضرور ہے، لیکن زرعی شعبے کو درپیش خطرات کے باعث یہ ایک مشکل ہدف بھی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ ریسرچ کے مطابق، اس اینالسٹ بریفنگ میں بتایا گیا کہ متوقع معاشی نمو کی بنیاد صنعتی اور خدمات کے شعبے ہوں گے، جنہیں درآمدات میں بہتری، گاڑیوں کی فروخت میں بحالی، پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال، روزگار کے حوالے سے بہتر رجحان، اور دسمبر 2024 سے مسلسل 50 سے اوپر رہنے والے پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) سے تقویت ملے گی۔
اس کے علاوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے آگاہ کیا کہ اسٹیٹ بینک جولائی میں اپنی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کرے گا، جس میں جی ڈی پی، مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تخمینے شامل ہوں گے۔ مالی سال 25-2024 میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں 25.8 ارب ڈالر رہیں، جن میں سے صرف 40 کروڑ ڈالر باقی ہیں۔ مالی سال 26-2025 میں قرضوں کی ادائیگی اسی کے آس پاس رہنے کی توقع ہے، جس کی تفصیلات آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس میں دی جائیں گی۔
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 25-2024 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اگلے سال میں بھی بیرونی مالیاتی صورتحال میں بہتری جاری رہے گی۔ ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 38 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 31.3 ارب ڈالر سے تقریباً 7 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ غیر رسمی ذرائع سے رسمی ذرائع کی طرف ایک بارگی منتقلی ہے۔ بینکوں اور حکومت کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ رجحان مستقبل میں بھی برقرار رکھا جا سکے۔
اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم او) کا حجم دو وجوہات کی بنا پر بڑھا: عید کے دوران کرنسی کی گردش میں اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی اور نئے مالیاتی ذرائع کے درمیان وقت کا فرق۔ تاہم آئندہ ہفتوں میں او ایم او لیولز میں کمی کی توقع ہے کیونکہ نئے مالیاتی وسائل دستیاب ہوں گے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے 2.4 کھرب روپے کے منافع کی منتقلی حکومت کو مالی سال 26-2025 کے آغاز میں آڈٹ اور بورڈ کی منظوری کے بعد کی جائے گی۔ یہ رقم اسٹیٹ بینک نے تصدیق شدہ طور پر فراہم کی ہے اور یہ بجٹ میں شامل بھی ہے۔ 2022 کے قانون میں ترمیم کے بعد، اسٹیٹ بینک سالانہ بنیاد پر منافع منتقل کرتا ہے، نہ کہ سہ ماہی بنیاد پر۔
اسٹیٹ بینک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جون تک کے نیٹ انٹرنیشنل ریزروز کا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہے، جبکہ دسمبر 2024 کا ہدف بھی خاطر خواہ فرق کے ساتھ حاصل کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی بنیادی تیل قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر فی بیرل لگایا ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں بھی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم موجودہ سطح کے آس پاس ہی رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.