ورلڈ بینک نے پاکستان ریزز ریونیو (پی آر آر) منصوبے کیلئے 7 کروڑ ڈالر کا اضافی قرض منظور کرلیا تاکہ پاکستان کی ملکی ریونیو وصولی کو بڑھایا جاسکے اور ٹیکس ادائیگی میں بہتری لائی جاسکے۔
اضافی فنانسنگ کے بعد اس منصوبے کے تحت مجموعی وسائل کی مالیت 470 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ فنانسنگ ایف بی آر کے اس منصوبے کے تحت حاصل کی گئی اہم کامیابیوں پر مبنی ہے جن میں 15 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کے اضافے کے ساتھ ٹیکس نیٹ کا وسیع ہونا، ایک سادہ اور زیادہ ترقی پسند ٹیکس نظام کی تشکیل (جس میں ودہولڈنگ ٹیکس کی اقسام میں کمی کی گئی)، سیلز ٹیکس کی ادائیگی اور تعمیل کے لیے واحد پورٹل سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا، اور تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے بزنس انٹیلیجنس اور ڈیٹا ٹولز کا قیام شامل ہے۔
ایف بی آر نے ٹیکس نظام میں شفافیت کو بھی بہتر بنایا ہے جس میں ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات کی رپورٹنگ شامل ہے۔
ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی شعبے کے بجٹ، خاص طور پر سوشل سیفٹینیٹس کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوسکے ہیں۔
اضافی فنڈنگ ایف بی آر کی ریونیو بڑھانے کی صلاحیت کو مزید تقویت دے گی، جس میں جدید آئی ٹی سسٹمز، ٹیکس چوری کی نشاندہی کے لیے جدید ڈیٹا اینالٹکس ٹولز اور کسٹمز آپریشنز کو بہتر بنانا شامل ہے۔
یہ اقدامات ایف بی آر میں شفافیت اور جوابدہی کو بڑھائیں گے جس سے عوام کا ٹیکس نظام پر اعتماد بحال ہوگا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کا رجحان بڑھے گا۔
یہ منصوبہ ورلڈ بینک گروپ کے پاکستان کے لیے 2026 تا 2035 کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سے ہم آہنگ ہے جو ملک میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 2035 تک 15 فیصد تک بڑھانے کے ہدف میں براہِ راست معاون ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.