وزیراعظم شہبازشریف نے جمعہ کو ایران پر اسرائیل کے بلااشتعال حملے کی شدید مذمت کی۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ایرانی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔انہوں نے اس سنگین اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام کو نہایت تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ پہلے سے غیر مستحکم خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ ہم عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ مزید کشیدگی روکی جاسکے جو علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
وزیراعظم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے جمعہ کو کہا کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کارروائی کو تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے ایک طویل آپریشن کا آغاز قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی حملے میں شہید ہوگئے ہیں اور تہران میں فورس کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دارالحکومت کے ایک رہائشی علاقے پر حملے کے نتیجے میں کئی بچے شہید ہوئے ہیں۔
ایرانی سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے کہا کہ وہ اس حملے کا سخت جواب دینے کا منصوبہ بنارہا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا، ایران کی جوابی کارروائی کی تفصیلات اعلیٰ ترین سطح پر زیر غور ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جوابی حملہ فوری ہو گا، تو انہوں نے یہی مؤقف دہرایا۔
مزید برآں ترجمان دفتر خارجہ شفقات علی خان کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ پرعزم یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور واضح طور پر اس اشتعال انگیزی کی مذمت کرتا ہے جو پورے خطے اور اس سے باہر کے امن، سلامتی اور استحکام کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے اور سنگین مضمرات کی حامل ہے۔
ادھر بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسرائیل کے بلااشتعال حملے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس پر لکھا کہ ہم تمام ذمہ دار ممالک اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں، تاکہ جارحیت اور تنازع کے بجائے امن و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.