ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعرات کو ہونے والے دھماکہ خیز تنازع کے بعد اسپیس ایکس کے تقریباً 22 ارب ڈالر کے سرکاری معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں اور متعدد امریکی خلائی پروگرامز کے مستقبل پر بھی گہرے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
یہ تنازع جو گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتیوں اور اخراجات سے متعلق قانون سازی پر مسک کی تنقید سے شروع ہوا تھا، تیزی سے بے قابو ہوگیا۔ صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں خطاب کے دوران مسک پر شدید تنقید کی، جس کے جواب میں مسک نے ایکس پر کئی پوسٹ کے ذریعے ٹرمپ پر طنزیہ حملے کیے۔ جواباً ٹرمپ نے مسک کی کمپنیوں کیساتھ سرکاری معاہدے ختم کرنے کی دھمکی دیدی۔
اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مسک نے اعلان کیا کہ وہ ناسا کیلئے استعمال ہونے والے اسپیس ایکس کے ڈریگن خلائی جہاز کو غیرفعال کرنے کا عمل شروع کریں گے۔
تاہم چند گھنٹے بعد مسک نے بظاہر اپنے فیصلے پر یوٹرن لے لیا۔ ایک فالوور کی جانب سے ایکس پر یہ مشورہ دینے پر کہ وہ اور ٹرمپ کچھ دن کیلئے معاملے کو ٹھنڈا کریں اور پیچھے ہٹ جائیں، مسک نے جواب دیا: اچھا مشورہ۔ ٹھیک ہے، ہم ڈریگن کو غیرفعال نہیں کریں گے۔
تاہم محض ڈریگن خلائی جہاز کو اچانک سروس سے ہٹانے کی مسک کی دھمکی، ناسا کے ایک بڑے تجارتی شراکت دار کی جانب سے ایک بے مثال اور غیر متوقع ردعمل کے طور پر دیکھی گئی۔
تقریباً 5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت ڈریگن کیپسول ناسا کا واحد امریکی خلائی جہاز ہے جو خلا بازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک لے جانے اور واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے مسک کی کمپنی امریکی خلائی پروگرام کا ایک نہایت اہم جزو بن چکی ہے۔
یہ تنازع اس بات پر سوالات کھڑے کررہا ہے کہ صدر ٹرمپ — جو اکثر غیر متوقع اقدامات کرتے ہیں اور ماضی میں سرکاری خریداری کے معاملات میں مداخلت بھی کرچکے ہیں — مسک کو سزا دینے کے لیے کس حد تک جائیں گے، جو گزشتہ ہفتے تک وفاقی حکومت کو مختصر کرنے کیلئے ٹرمپ کے اقدام کی قیادت کر رہے تھے۔
اگر صدر سیاسی انتقام کو فوقیت دیتے ہوئے ناسا اور پینٹاگون کے ساتھ اسپیس ایکس کے اربوں ڈالر کے معاہدے منسوخ کر دیں، تو اس سے امریکی خلائی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
ناسا کی پریس سیکرٹری بیتھنی اسٹیونز نے اسپیس ایکس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن کہا: “ہم اپنے صنعتی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ صدر کے خلائی مقاصد کو پورا کیا جا سکے۔
ماسک اور ٹرمپ کے مابین تنازع نے اس منفرد تعلق کو توڑ کر رکھ دیا جو امریکی صدر اور صنعت کے ایک طاقتور ستون کے درمیان قائم تھا، اور جس نے اسپیس ایکس کے لیے بے شمار اہم کامیابیاں اور مراعات فراہم کی تھیں: ناسا کے چاند کے پروگرام کو مریخ کے مشن میں تبدیل کرنے کی جرات مندانہ تجویز، خلاء میں ایک عظیم الشان میزائل دفاعی شیلڈ کی تعمیر کی منصوبہ بندی، اور ایئر فورس میں ایسے قائد کا انتخاب جو اسپیس ایکس کو اہم معاہدوں میں فوقیت دیتا تھا۔
ڈرَیگن اسپیس کرافٹ کو سروس سے ہٹانا ممکنہ طور پر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) پروگرام کو شدید متاثر کرے گا جو دو دہائیوں پر محیط بین الاقوامی معاہدے کے تحت درجنوں ممالک کے مشترکہ تعاون پر مبنی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا ڈیکمیوشن کتنی تیزی سے کیا جائے گا۔
ناسا اپنے خلا بازوں کو آئی ایس ایس تک پہنچانے کے لیے بطور متبادل روس کے سوئوز اسپیس کرافٹ کا استعمال کرتا ہے۔
اسپیس ایکس کی کامیابی کا سفر
ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس نے مسک کے ریپبلکن سیاست میں شامل ہونے سے پہلے ہی خلائی راکٹ لانچ اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں زبردست مارکیٹ شیئر بنا لیا تھا، جو اسے ٹرمپ سے مسک کے جھگڑے سے کچھ حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔
فورٹونا انویسٹمنٹس کے سی ای او جسٹس پارمار کے مطابق، “یہ کوئی تباہ کن صورتحال نہیں ہوگی کیونکہ اسپیس ایکس ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، لیکن اس کے باوجود اس سے کافی آمدنی اور معاہدوں کے مواقع ضائع ہوں گے۔
حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کی حکومت نے امریکی خلائی صنعت اور ناسا کے 18 ہزار ملازمین کو لا تعداد چھٹیوں اور بجٹ کٹوتیوں کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ناسا کے سربراہ کی تقرری بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ناسا کے ممکنہ سربراہ، مسک کے حلیف جیرڈ آئزک مین کو وائٹ ہاؤس نے اچانک نامزدگی سے ہٹا دیا، جس سے مسک کی سیاسی طاقت متاثر ہوئی۔ مسک کا مریخ پر انسان بھیجنے کا منصوبہ ٹرمپ کے خلائی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، جس نے ناسا کے چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے ’آرٹیمس‘ کے وسائل کم کرنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ کے بجٹ پلان میں چوتھی اور پانچویں مشن منسوخ کرنے کی تجویز تھی، مگر سینیٹ کی تجویز میں فنڈز بحال کیے گئے ہیں۔ اسپیس ایکس جو 2002 میں قائم ہوا، نے ناسا سے 15 ارب ڈالر کے معاہدے حاصل کیے ہیں، جن میں فالکن 9 راکٹ اور اسٹارشپ کی ترقی شامل ہے، جو اس دہائی میں ناسا کے خلا بازوں کو چاند پر لے جانے کے لیے استعمال ہوگا۔
کمپنی کو پینٹاگون کے زیادہ تر قومی سلامتی کے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے لیے بھی اربوں ڈالر دیے گئے ہیں، ساتھ ہی ایک جاسوسی سیٹلائٹ نیٹ ورک بھی بنایا جا رہا ہے۔
سابقہ ناسا نائب منتظم لوری گارور کے مطابق اسپیس ایکس کے معاہدے منسوخ کرنا غیر قانونی ہو سکتا ہے، مگر ایک خودسر سی ای او کا خلائی جہاز بند کرنے کی دھمکی دینا اور خلا بازوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔


Comments
Comments are closed.