BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی کے ارب پتی سی ای او ایلون مسک کے درمیان لفظوں کی گولہ باری نے جمعرات کو ٹیسلا کمپنی کے شئیر 17.6 فیصد تک گرادیے ہیں۔

سرمایہ کار بے چینی کے ساتھ اس کشیدہ صورتحال کو دیکھ رہے ہیں، سرمایہ کار فکر مند ہیں یہ جھگڑا ایلون مسک کے کاروبارکیلئے سنگین نتائج لے کر آسکتا ہے۔

کار ساز کمپنی کے شیئرز دن کے اختتام پر 14 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

تاجروں نے ٹیسلا کے شیئرز بڑی مقدار میں بیچ دیے جب مسک نے ٹرمپ کی تنقید کا فوری جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر صدر کے ٹیکس بل پر شدید تنقید کی۔ اس پر ٹرمپ نے بھی جواب دیا اور الزام لگایا کہ مسک اس لیے ناراض ہیں کیونکہ یہ بل الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر ملنے والے ٹیکس فوائد کو ختم کررہا ہے۔

ٹرمپ کے ساتھ تنازع نے ٹیسلا اور ایلون مسک کے وسیع کاروبار کے لیے متعدد مشکلات کھڑی کردی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ نقل و حمل گاڑیوں کے ڈیزائن کے معیار کی نگرانی کرتا ہے اور یہی ادارہ فیصلہ کرے گا کہ آیا ٹیسلا بغیر پیڈلز اور اسٹیئرنگ وہیل کے روبوٹیکسیز کی بڑے پیمانے پر تیاری کرسکتی ہے یا نہیں، جس کا اس کی مستقبل کی کامیابی پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس ادارے نے ایک حادثے کے بعد ٹیسلا کے ڈرائیور معاونت سافٹ ویئر، جسے ”فل سیلف ڈرائیونگ“ کہا جاتا ہے کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔

ٹیسلا کے شیئر ہولڈر اور اسٹاک ٹریڈر نیٹ ورک کے چیف اسٹریٹیجسٹ ڈینس ڈک نے کہا کہ ایلون کی سیاست شیئر کی قیمت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پہلے وہ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جس سے بہت سے ممکنہ ڈیموکریٹ خریدار ناراض ہوئے۔ اب انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ورق پلٹ لیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی کے باعث مسک نے گزشتہ سال کے دوران ٹیسلا کے مستقبل کو خود چلنے والی روبوٹیکسیز کے گرد مرکوز کردیا ہے۔

گزشتہ سال ایک ارننگ کال میں، مسک نے کہا تھا کہ اگر سرمایہ کار کمپنی پر یہ یقین نہیں رکھتے کہ وہ خودکار گاڑیوں کی تکنیکی مشکلات حل کر لے گی، تو انہیں اپنا ٹیسلا کا شیئر بیچ دینا چاہیے۔ ویڈ بش کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے لیے مصنوعی ذہانت اور خود مختار گاڑیوں کے مواقع کی مارکیٹ ویلیو اکیلے ہی 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

مسک نے خود مختار گاڑیوں کے لیے ایک جامع اور یکساں وفاقی منظوری کے عمل کی بھرپور حمایت کی ہے، تاکہ مختلف ریاستوں کے پیچیدہ اور منتشر قوانین کا جال سادہ اور مؤثر طریقے سے حل کیا جاسکے۔

ٹیسلا کے سرمایہ کار ادارے جربر کاواساکی ویلتھ اینڈ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے سی ای او روس گیربر نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ جاری تنازعہ ٹیسلا کے خلاف منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے، جو نہ صرف ریگولیٹری چیلنجز کو بڑھا سکتا ہے بلکہ کمپنی کے لیے مزید حکومتی تحقیقات کے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔

گیربر نے کہا کہ جو بھی فائدہ پہلے متوقع تھا اب وہ سب منفی اثرات میں بدل چکا ہے۔

ایلون مسک نے رواں ہفتے صدر ٹرمپ کے ”بڑے خوبصورت بل“ کی سخت تنقید کی، جب انہوں نے وائٹ ہاؤس میں وقت کم گزارنے اور اپنی کمپنیوں پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔

فوربز کے مطابق جمعرات کی بڑی فروخت کے بعد ان کی خالص دولت تقریباً 27 ارب ڈالر کم ہو کر 388 ارب ڈالر رہ گئی۔

جمعرات کو اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے بجٹ میں اربوں ڈالر کی بچت کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ ایلون کو دی جانے والی سرکاری سبسڈیز اور معاہدے ختم کر دیے جائیں۔

ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری شان ڈفی نے خودمختار گاڑیوں کو کچھ حفاظتی تقاضوں سے مستثنیٰ کرنے کا اقدام کرلیا ہے اور نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ خودمختار گاڑیوں کے لیے متعدد پہلوؤں پر مشتمل ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے میں فعال طور پر مصروف ہے۔

اگرچہ وفاقی حکومت خودکار ڈرائیونگ سے متعلق کچھ قوانین کو آسان بنانے کا عمل شروع کرچکی ہے مگر مارننگ اسٹار کے تجزیہ کار سیٹھ گولڈسٹین نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ریگولیٹرز ایسے قواعد وضع کریں جو خاص طور پر ٹیسلا کو نشانہ بنائیں۔

زیادہ تر خودمختار گاڑی بنانے والی کمپنیاں رادار اور لائیڈر جیسے سینسرز استعمال کرتی ہیں تاکہ مختلف اشیاء کا پتہ لگا سکیں، لیکن ٹیسلا مکمل طور پر کیمروں پر انحصار کرتی ہے۔

گولڈسٹین کا کہنا ہے کہ وفاقی ریگولیٹرز ایسے قواعد بنا سکتے ہیں جو لائیڈر کا استعمال لازمی قرار دیں جس سے ٹیسلا کو نقصان پہنچے گا۔

گولڈسٹین نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تلخ تعلقات ہمیشہ اس خطرے کو جنم دیتے ہیں کہ آپ کو ذاتی طور پر بدلہ لینے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ ایسا نتیجہ ممکن ہے کیونکہ کئی دیگر کمپنیاں سالوں سے نئی ضوابط کی حمایت کررہی ہیں۔

مسک کے جولائی 2024 کے وسط میں ٹرمپ کی دوبارہ انتخابی مہم کی حمایت کرنے کے بعد سے ہی ٹیسلا کے شیئرز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے بعد سے لے کر دسمبر کے وسط تک شیئرز میں 169 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے بعد ٹیسلا ٹیک ڈاؤن احتجاج کے شدت اختیار کرنے کے باعث شیئرز میں اپریل کے آغاز تک 54 فیصد کی گراوٹ آئی۔

مسک کی ڈی او جی ای کی قیادت اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی نے کچھ گاڑی خریداروں کو مایوس کر دیا، جس کے نتیجے میں یورپ، چین اور اہم امریکی بازاروں جیسے کیلیفورنیا میں فروخت میں کمی واقع ہوئی۔

ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے ٹرمپ کے بجٹ بل کے مسودے میں 2025 کے آخر تک مقبول 7,500 ڈالر کی الیکٹرک گاڑیوں کی سبسڈی کو بڑی حد تک ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹیسلا اور دیگر گاڑی ساز ادارے سالوں سے اس سبسڈی پر انحصار کرتے آئے ہیں تاکہ طلب میں اضافہ کیا جا سکے، لیکن ٹرمپ نے عبوری دور میں اس سبسڈی کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

جے پی مورگن کے مطابق، ٹیسلا کو اپنی سالانہ منافع میں 1.2 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جس کے ساتھ ہی ایک علیحدہ سینیٹ قانون سازی کی وجہ سے جو کیلیفورنیا کی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے تقاضوں کو ہدف بنا رہی ہے، ریگولیٹری کریڈٹ کی فروخت میں مزید 2 بلین ڈالر کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

کمپنی اب بھی دنیا کی سب سے ویلیوایبل گاڑی ساز ادارہ ہے۔ بدھ تک، ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1 ٹریلین ڈالر تھی، جو کہ ٹویوٹا موٹر کی 290 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔

Comments

Comments are closed.