BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

عالمی بینک نے بین الاقوامی غربت کی نئی حدود جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق پاکستان جیسے نچلے درمیانے آمدنی والے ممالک کیلئے فی فرد یومیہ غربت کی حد کو 3.65 ڈالر سے بڑھا کر 4.20 ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ گئی ہے، جو پہلے 39.8 فیصد تھی۔

اسی طرح انتہائی غربت کی حد بھی 2.15 ڈالر سے بڑھا کر 3 ڈالر فی یوم کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب 16.5 فیصد پاکستانی اس زمرے میں آتے ہیں، جبکہ پہلے یہ شرح 4.9 فیصد تھی۔

اپر مڈل کلاس آمدنی والے ممالک کیلئے نئی حد 8.30 ڈالر فی فرد یومیہ مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 88.4 فیصد آبادی آتی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق ان تبدیلیوں کی بنیاد 2021 کی پرچیزنگ پاور پیریٹی (پی پی پی) کے نئے اعداد و شمار اور قومی سطح کی غربت کی نئی تعریفات پر ہے۔ نئے خطوط قیمتوں کے عالمی رجحانات، افراط زر اور ضروریاتِ زندگی کے بڑھتے اخراجات کو مدِنظر رکھتے ہوئے متعارف کرائے گئے ہیں۔

عالمی بینک کی سینئر ماہر معیشت کرسٹینا ویزر اور پاکستان کیلئے چیف ماہر معیشت ٹوبیاس ہاک نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ ان حدود کی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں غربت میں اچانک اضافہ ہوا ہے، بلکہ اس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر غربت کے تقابلی جائزے کو زیادہ حقیقت پسند بنانا ہے۔

یہ نئے بین الاقوامی غربت کے خطوط صرف بین الاقوامی موازنے کیلئے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ پاکستان میں غربت کی اصل پیمائش کیلئے قومی غربت کی لکیر ہی مناسب معیار ہے۔

نئے اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں غربت کی شرح میں سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر جب 2021 کی پرچیزنگ پاور پیریٹی پر مبنی انتہائی غربت کی لکیر کو لاگو کیا گیا۔

یہ اضافہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی بڑی تعداد میں آبادی ایسے گھرانوں پر مشتمل ہے جن کی فلاحی سطح 2.15 ڈالر اور 3 ڈالر کے درمیان ہے — یعنی وہ بین الاقوامی غربت کی لکیر کے بالکل قریب زندگی گزار رہے ہیں۔

اہم نکات: نئی غربت کی حدود عالمی معیار کے مطابق اپڈیٹ کی گئی ہیں۔ پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ صرف حدوں کی تبدیلی کا نتیجہ ہے، زمینی حقائق میں فوری فرق نہیں آیا۔ قومی پالیسی سازی کیلئے مقامی غربت کی لکیر کو ہی بنیاد بنایا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.