BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ — جہاں پاکستانی خریدار اب بھی سرفہرست ہیں — نے مئی 2025 کے دوران 18,700 سودوں کے ذریعے 66.8 ارب درہم کی لین دین ریکارڈ کی۔ یہ انکشاف آن لائن رئیل اسٹیٹ پورٹل پراپرٹی فائنڈر نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

یہ تاریخی کامیابی لین دین کی مالیت میں سالانہ بنیاد پر 44 فیصد کے حیرت انگیز اضافے اور حجم میں 6 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے جس مارکیٹ میں اعتماد اور سرمایہ کاروں کی دبئی میں مستقل دلچسپی بھی سامنے آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پراپرٹی فائنڈر کے چیف ریونیو آفیسر شریف سلیمان کا کہنا ہے کہ ہمیں لگا کہ اپریل دبئی کی سب سے بڑی لین دین کا مہینہ تھا جس میں 62.1 ارب درہم کی لین دین ہوئی تاہم مئی نے اس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور 66.8 ارب درہم کی مالیت تک پہنچ گیا۔

انہوں نے مزید کہا یہ بات ان رجحانات کی پائیداری کو اجاگر کرتی ہے جو اس وقت دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دبئی مسلسل رئیل اسٹیٹ انوویشن میں مثال قائم کر رہا ہے کیوں کہ حال ہی میں دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے علاقے کا پہلا لائسنس یافتہ ٹوکنائزڈ پراپرٹی انویسٹمنٹ پلیٹ فارم لانچ کرنا اس کا ثبوت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سال آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ – روزانہ تقریباً 1,000 نئے رہائشیوں کا دبئی میں آنا، جو پچھلے سال کے یومیہ وزیٹرز کی آمد سے دو گنا ہے – رہائش کی طلب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پس منظر میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ مثبت رفتار سے لطف اندوز ہو رہی ہے، جسے ڈیجیٹل تبدیلی، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی، اور اعلیٰ معیار کی رہائش کی مانگ میں اضافے نے تقویت دی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پراپرٹی فائنڈر کے حالیہ اجلاس میں شریک رئیل اسٹیٹ کے ماہرین پر پُر امید ہیں کہ 2025 کے دوران لین دین کی سرگرمی مزید بڑھے گی کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بے مثال دلچسپی، آف پلان منصوبوں کی زبردست کارکردگی اور لگژری ری سیل مارکیٹ کی مضبوط سرگرمی اس رفتار کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

سرمایہ کاری کے مراکز

رپورٹ کے مطابق بزنس بے ایک پریمیئم سرمایہ کاری کا مرکز بن کر سامنے آیا جس نے کل بنیادی لین دین کی مالیت کا 5 فیصد حصہ حاصل کیا حالانکہ لین دین کے حجم میں اس کا حصہ صرف 3 فیصد تھا۔ یہ بات اعلیٰ معیار اور مہارت سے بھرپور سرمایہ کاری کی سرگرمی“ کی عکاسی کرتا ہے۔

البرشاء نے مارکیٹ میں وسیع دلچسپی کا مظاہرہ کیا جہاں اس نے کل مالیت کا 2 فیصد اور لین دین کے حجم کا 5 فیصد حصہ حاصل کیا جو ”مختلف قیمتوں پر مضبوط طلب“ کو ظاہر کرتا ہے۔

پام دیرا میں 1.5 ارب درہم کی ایک نمایاں زمین کی خرید و فروخت نے ”دبئی کی طویل مدتی ترقی کے سفر پر ادارہ جاتی اعتماد“ کو ظاہر کیا۔ یہ اعتماد ان علاقوں میں مضبوط ری سیل سرگرمی سے مزید مستحکم ہوا جیسے بزنس بے، البرشاء، اور وادی الصفا 3۔

دوسری طرف پچھلے ایک سال میں صارفین کی ترجیحات میں خاص فرق نہیں آیا۔ اپارٹمنٹس کی اب بھی سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے جہاں اپارٹمنٹس کرایہ کے خواہشمندوں کی تلاش میں 78 فیصد اور خریداروں کی دلچسپی میں 60 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔

اسٹوڈیوز نے کرایے پر حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی تلاشوں میں 21 فیصد حصہ حاصل کیا، جبکہ خریداری میں ان کی دلچسپی صرف 15 فیصد رہی۔ ایک بیڈ روم والے یونٹس نے خریداری کی تلاشوں میں 35 فیصد اور کرایہ کی تلاشوں میں 38 فیصد حصہ حاصل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، “یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ اسٹوڈیوز بجٹ کا خیال رکھنے والے کرایہ داروں کے لیے پرکشش ہوتے ہیں، لیکن خریدار نسبتاً بڑے یونٹس کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ ان میں طویل المدتی قدر، بہتر رہائش، یا سرمایہ کاری کی بہتر صلاحیت دیکھتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.