BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-1.61%)
KSE100 Decreased By (-0.79%)
KSE30 Decreased By (-0.78%)
BAFL 56.93 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.30 (-0.99%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.80 Decreased By ▼ -4.65 (-2.42%)
FABL 93.51 Decreased By ▼ -0.63 (-0.67%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.06 Decreased By ▼ -0.50 (-2.56%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.25 Decreased By ▼ -2.17 (-1.08%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.27 Decreased By ▼ -0.19 (-0.72%)
MLCF 90.99 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.08 Decreased By ▼ -0.55 (-1.54%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 221.19 Decreased By ▼ -5.72 (-2.52%)
PRL 91.19 Decreased By ▼ -1.83 (-1.97%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.22 Decreased By ▼ -0.59 (-2.48%)
TELE 7.55 Decreased By ▼ -0.25 (-3.21%)
TPLP 12.57 Decreased By ▼ -0.40 (-3.08%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پاور سیکٹر کی انڈیجنائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر توانائی

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت درآمدات کے بجائے برآمدات پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے...
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت درآمدات کے بجائے برآمدات پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور توانائی شعبے میں مقامی وسائل پر انحصار وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات جاری ہیں، آزاد نظام اور مارکیٹ آپریٹر مکمل طور پر فعال ہوچکا ہے اور انرجی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کو بھی جلد فعال کیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی)، سابقہ این ٹی ڈی سی اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے یہاں لمس کیمپس میں منعقدہ قومی مشاورتی ورکشاپ پاور سیکٹر انڈیجینائزیشن روڈ میپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پروگرام میں پاور سیکٹر، صنعت، ریگولیٹری اداروں، پالیسی سازوں اور تعلیمی میدان کے سینئر رہنماؤں کو یکجا کیا گیا تاکہ پاکستان کے برقی توانائی کے ساز و سامان کی مقامی صنعت کو تیز کرنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اس مشترکہ اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ این جی سی پہلا قومی ادارہ ہے جس نے منظوری شدہ انڈیجینائزیشن پالیسی کو نافذ کیا ہے اور اس کا اسٹریٹجک پروکیورمنٹ ماڈل پہلے ہی نمایاں نتائج دے رہا ہے۔ پاور سیکٹر میں انڈیجنائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے واپڈا، ڈسکوز ، کراچی الیکٹرک اور سرکاری و نجی پاور جنریشن پلانٹس پر زور دیا کہ وہ انڈیجنائزیشن کو محض سماجی ذمے داری (سی ایس آر) کے طور پر نہیں بلکہ قومی بجلی منصوبہ 2023–2027 کے مطابق ایک بنیادی خریداری کے اصول کے طور پر اپنائیں۔

ورکشاپ کی ایک اہم پیش رفت پاکستان کا پہلا پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ تھا، جسے لمس انرجی انسٹیٹیوٹ نے پاور سیکٹر کے متعلقہ شراکت داروں کی معاونت سے تیار کیا ہے۔ یہ جدید ڈیجیٹل ٹول حقیقی وقت میں لوکلائزیشن کی پیش رفت کی نگرانی کرے گا، وینڈر کی صلاحیت کا جائزہ لے گا اور پاور سیکٹر انڈیجینائزیشن پلان کے تحت اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ ڈیش بورڈ کا مشترکہ افتتاح ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری، چیئرمین این جی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سینئر ایڈوائزر لمس انرجی انسٹی ٹیوٹ، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر، منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر محمد وسیم یونس، سی ای او کراچی الیکٹرک سید منیس عبد اللہ علوی اور دیگر نے کیا۔

Comments

Comments are closed.