BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.26 (0.46%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 9.98 Increased By ▲ 0.10 (1.01%)
DFML 17.99 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 204.49 Decreased By ▼ -0.44 (-0.21%)
FABL 100.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.41 (0.77%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
GGL 24.78 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
HBL 301.90 Increased By ▲ 2.08 (0.69%)
HUBC 217.98 Increased By ▲ 0.90 (0.41%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.20 (1.89%)
KEL 7.23 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 29.78 Increased By ▲ 0.47 (1.6%)
MLCF 92.25 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 1.71 (0.54%)
PAEL 41.99 Decreased By ▼ -0.05 (-0.12%)
PIBTL 16.50 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 302.00 Increased By ▲ 1.76 (0.59%)
PPL 217.88 Increased By ▲ 1.04 (0.48%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 102.45 Increased By ▲ 0.73 (0.72%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.42 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
TRG 59.99 Increased By ▲ 0.73 (1.23%)
UNITY 10.25 Decreased By ▼ -0.05 (-0.49%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے لیے مالی سال 2023-24 سے 2029-30 تک 7 سالہ ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) منصوبہ کے تحت تقسیم اور ٹرانسمیشن کے نئے ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔ نیپرا نے مالی سال 2024-25 کے لیے تقسیم کے نظام کے لیے 50.284 ارب روپے کی آمدنی کا ہدف مقرر کرتے ہوئے فی یونٹ اوسطاً 3.31 روپے اضافے کی منظوری دی ہے۔

پاور یوٹیلٹی کمپنی کو مالی سال 2023-24 کے لیے 43.447 ارب روپے کے یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) ریونیو کی بھی اجازت دی گئی ہے جس کا اثر فی یونٹ تقریباً 3.30 روپے ہوگا اور یہ رقم سرمایہ کاری کے منصوبے کی منظوری پر تبدیل ہوسکتی ہے۔

یہ فیصلے صارفین کے بجلی بلوں پر کوئی فرق نہیں ڈالیں گے کیونکہ پاکستان بھر میں یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت صارفین سے وصولی جاری رہے گی۔

نیپرا کی جانب سے 27 جون 2024 کو تقسیم ٹیرف کے حوالے سے ایک عوامی سماعت کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی سمیت مختلف علاقوں سے متعدد شرکاء نے حصہ لیا تھا۔

کے الیکٹرک نے اپنے ڈسٹری بیوشن سیکٹر کیلئے 16 فیصد ریٹرن آن ایکوٹی کی درخواست کی تھی لیکن نیپرا نے اسے 14 فیصد منظور کیا جو کہ کے الیکٹرک کی درخواست سے خاصی کم ہے، اسی طرح ٹرانسمیشن کیلئے ریٹرن آن ایکویٹی 15 فیصد کی درخواست کے مقابلے میں 12 فیصد منظور کی گئی۔

7 سالہ ٹیرف کنٹرول مدت کے حوالے سے کے الیکٹرک نے وضاحت کی کہ چونکہ یہ ایک نجی ادارہ ہے، اس لیے اسے حکومتی ضمانت کے بغیر مالی معاونت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ قرض دہندگان اثاثوں کی مدت سے زائد، یعنی عام طور پر 10 سے 12 سال تک کے کیش فلو تخمینے چاہتے ہیں، جبکہ کے الیکٹرک کے اثاثوں کی عمر 10 سے 30 سال تک ہوتی ہے، جو کہ طویل مدتی مالی منصوبہ بندی کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے مالی سال 2024 سے 2030 تک 7 سالہ ٹیرف کنٹرول مدت کی درخواست کی، جو کہ ماضی کی منظوریوں اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کے منظور شدہ سرمایہ کاری منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ کے الیکٹرک کے مطابق پائیدار اور طویل المدتی ٹیرف کا تعین انتہائی ضروری ہے تاکہ مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو آمدنی اور منافع کی واضح پیش گوئی فراہم کی جاسکے۔ مختصر مدت کی ٹیرف منظوری نہ صرف منصوبوں کی افادیت کے تعین کو متاثر کرے گی بلکہ مالی معاونت کے حصول میں بھی رکاوٹ بنے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.