بھارت نے بدھ کے روز نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مذکورہ سفارتکار پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے جو اُس کی سرکاری حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ جاری کرکے انہیں اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ناظم الامور کو ہدایت کی گئی کہ بھارت میں تعینات کوئی بھی پاکستانی سفارتکار یا اہلکار اپنے اختیارات اور سفارتی حیثیت کا غلط استعمال نہ کرے۔
یہ فیصلہ حالیہ سرحدی جھڑپوں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی معطلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان دونوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک بدر کیا ہے اور ایک دوسرے پر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔


Comments
Comments are closed.