ایک تاریخی فیصلے میں وفاقی کابینہ نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سیّد عاصم منیر (نشانِ امتیاز، ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے، یہ عہدہ پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز ہے۔ یہ اعزاز انہیں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی غیر معمولی قیادت کے اعتراف میں دیا گیا، جس میں بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کو موثر طور پرپسپا کیا گیا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھارت کے ساتھ حالیہ عسکری بحران کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعظم کے دفتر کے جاری کردہ بیان میں جنرل عاصم منیر کی شاندار بہادری اور عزم کو سراہا گیا،کابینہ نے متفقہ طور پر وزیراعظم کی اس تجویز کی توثیق کی کہ جنرل عاصم منیر کی حکمتِ عملی میں مہارت اور مادرِ وطن کے دفاع میں جرأت مندانہ قیادت کو اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیا جائے۔
چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر ملک کی تاریخ میں صرف دوسرے فرد بن گئے ہیں جنہوں نے پانچ ستارہ نشانِ اعزاز پہنایا ہے — اس سے پہلے یہ اعزاز فیلڈ مارشل ایوب خان کو 1965 میں ملا تھا۔ یہ عہدہ برطانوی فوجی روایت کی طرز پر دیا جاتا ہے اور جنگی قیادت کی اعلیٰ مثال کی علامت ہے۔
اجلاس کے دورن ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں بھی توسیع کی منظوری دی گئی تاکہ تنازع کے دوران ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آپریشن کے دوران خدمات انجام دینے والے فوجی جوانوں، شہداء اور شہریوں کو سرکاری اعزازات سے نوازا جائے گا۔
علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو ان فیصلوں پر بریفنگ دی جو کہ قومی سیاسی یکجہتی کی علامت ہے۔
اپنے عہدے پر ترقی کے بعد جاری کیے گئے پہلے بیان میں نو تعینات فیلڈ مارشل جنرل سیّد عاصم منیر نے یہ اعزاز پاکستان کی مسلح افواج اور شہداء کے نام کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ اعزاز پوری قوم، پاکستان کی مسلح افواج، اور خاص طور پر ہمارے شہداء اور زخمی ہیروز، خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی، کے نام کرتا ہوں۔“
انہوں نے ملک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ کامیابی کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ پوری قوم اور افواجِ پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہےیہ کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم کے لیے ایک اعزاز ہے۔“


Comments
Comments are closed.