بھارت میں دو بڑی ٹریول بکنگ کمپنیوں کے مطابق، ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کے بعد بھارتی سیاح ان ممالک میں اپنی تعطیلات منسوخ کرنے لگے ہیں۔
گزشتہ ماہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مہلک حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا، جس کا الزام نئی دہلی نے پاکستان پر لگایا۔ پاکستان نے کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی، تاہم بھارت کی جانب سے پاکستان میں مبینہ ”دہشتگرد کیمپوں“ پر حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ہفتہ کے روز ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا جو اب تک مؤثر رہی ہے۔
ترکی اور آذربائیجان، جو بھارتیوں کے لیے مقبول اور نسبتاً سستے سیاحتی مقامات ہیں، نے بھارت کے حملوں کے بعد پاکستان کی حمایت میں بیانات جاری کیے۔ اس پر میک مائی ٹرپ کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران آذربائیجان اور ترکیہ کے لیے بکنگز میں 60 فیصد کمی آئی ہے جبکہ منسوخیوں میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایز مائی ٹرپ کے سی ای او ریکانت پٹی نے کہا کہ ان کے پلیٹ فارم پر ترکیہ کے لیے 22 فیصد اور آذربائیجان کے لیے 30 فیصد بکنگز منسوخ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تناؤ ہے۔ سیاح اب جارجیا، سربیا، یونان، تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے متبادل ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔
ایک اور ٹکٹنگ پلیٹ فارم آئسگو نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ وہ ترکیہ، آذربائیجان اور چین کے لیے ہوائی جہاز اور ہوٹل بکنگ سروسز معطل کر رہا ہے۔
ایز مائی ٹرپ کے بانی اور چیئرمین نیشانت پٹی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ گزشتہ سال 2 لاکھ 87 ہزار بھارتی سیاح ترکیہ اور 2 لاکھ 43 ہزار آذربائیجان گئے تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ ممالک کھلے عام پاکستان کی حمایت کرتے ہیں، تو کیا ہمیں ان کی سیاحت اور معیشت کو فروغ دینا چاہیے؟


Comments
Comments are closed.