امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز سعودی عرب میں ایک غیر متوقع پیش رفت کے تحت شام کے صدر احمد الشراع سے ملاقات کی اور شام پر عائد تمام امریکی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ شام کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ ملاقات خلیجی عرب ممالک اور امریکہ کے درمیان ایک سربراہی اجلاس سے قبل ہوئی، جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی موجودگی میں ٹرمپ اور احمد الشراع نے مصافحہ کیا۔ سعودی سرکاری ٹیلی ویژن پر اس ملاقات کی تصاویر بھی نشر کی گئیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق، ٹرمپ نے احمد الشراع پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کے کچھ حلقوں کو احمد الشراع کے القاعدہ سے ماضی کے روابط پر تحفظات تھے، تاہم ٹرمپ نے ریاض میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی اس اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق، اردوان اور محمد بن سلیمان دونوں نے شام پر پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کی حمایت کی۔
اس فیصلے سے احمد الشراع حکومت کو بڑا سفارتی فائدہ حاصل ہوا ہے، جو سابق صدر بشار الاسد کو دسمبر میں اقتدار سے ہٹانے کے بعد شام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ احمد الشراع ماضی میں شام میں القاعدہ کے مرکزی دھڑے کے رہنما رہ چکے ہیں، اور عراق میں پانچ سال امریکی قید میں بھی گزار چکے ہیں۔ امریکہ نے دسمبر 2024 میں ان کے سر کی ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم واپس لے لی تھی۔
مارچ میں شامی حکومت کی افواج پر سابق صدر اسد کے حامیوں کے حملے کے بعد، اسلام پسند جنگجوؤں نے جوابی کارروائی میں علوی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شہریوں کو قتل کیا، جس پر امریکہ نے سخت مذمت کی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کے کئی حلقوں کو احمد الشراع کے ماضی پر اب بھی شدید تحفظات ہیں۔ اسرائیلی حکام انہیں اب بھی جہادی قرار دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے 2016 میں القاعدہ سے روابط ختم کر دیے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے اس پیش رفت پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ کے خلیجی دورے کے پہلے دن شاہانہ استقبال اور اربوں ڈالر کے معاہدوں سے بھرپور رہے، جن میں سعودی عرب کی طرف سے امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 142 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری شامل ہے۔
ٹرمپ بعد ازاں بدھ کو دوحہ روانہ ہوئے جہاں وہ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کریں گے۔ قطر کی طرف سے بھی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے اعلان کیا کہ قطر امریکہ کو بوئنگ 747-8 طیارہ تحفے میں دے گا، جسے مستقبل میں ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ تحفہ ٹرمپ کے صدارتی لائبریری منصوبے کے لیے وقف کیا جائے گا، تاہم اس پر ڈیموکریٹس اور سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے کرپشن اور قومی مفادات پر سمجھوتے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
امکان ہے کہ قطر ایئرویز 100 بوئنگ وائیڈ باڈی طیاروں کی خریداری کا اعلان کرے گی۔
ٹرمپ جمعرات کو ابوظہبی جائیں گے، اور جمعہ کو یا تو واشنگٹن واپس لوٹیں گے یا ترکیہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے روانہ ہو سکتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.