امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کی صبح سعودی عرب پہنچیں گے، جہاں سے وہ خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے کا آغاز کریں گے۔ اس دورے کا محور سیکیورٹی بحرانوں کے بجائے معاشی معاہدے ہوں گے، اگرچہ غزہ کی جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ کشیدگی بھی خطے میں موجود ہے۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ معروف امریکی کاروباری شخصیات بھی ہوں گی، جن میں ٹیسلا کے سی ای او اور ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک شامل ہیں۔ ٹرمپ اپنے دورے کا آغاز ریاض سے کریں گے جہاں ”سعودی-امریکہ سرمایہ کاری فورم“ منعقد ہو رہا ہے۔ بدھ کو وہ قطر اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات جائیں گے۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ جمعرات کو ترکی کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان براہ راست مذاکرات کا امکان ہے۔
یہ صدر ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دوسرا غیر ملکی دورہ ہے—پہلا دورہ انہوں نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے روم کا کیا تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا بھر میں جغرافیائی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
یوکرین جنگ کے حل پر زور دینے کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے لیے نئی امدادی اسکیم لانے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر جنگ بندی کے معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسی دوران، امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے سے متعلق بات چیت ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف عسکری کارروائی خارج از امکان نہیں۔
تاہم، موجودہ شیڈول کے مطابق یہ سیکیورٹی معاملات اس دورے کا مرکزی نکتہ نہیں ہوں گے۔
امریکہ، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات ممکنہ طور پر کھربوں ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں کا اعلان کریں گے۔ سعودی عرب پہلے ہی جنوری میں اگلے چار سالوں میں امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس رقم کو ایک کھرب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
ٹرمپ کے ساتھ شامل کاروباری شخصیات میں بلیک راک کے سی ای او لیری فنک اور سٹی گروپ کی سی ای او جین فریزر بھی شامل ہوں گی۔ ان کے ساتھ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، قومی سلامتی کے مشیر اور سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ بھی سفر کریں گے۔
ریاض کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ سعودی عرب کو 100 ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیاروں کا پیکیج پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے سمیت جدید اسلحہ شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب اس دورے کے دوران اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے موضوع سے اجتناب کریں گے، حالانکہ خطے میں ٹرمپ کی سب سے اہم سفارتی کامیابی ابراہام معاہدے رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکاف کا کہنا ہے کہ وہ ابراہام معاہدوں میں توسیع کی توقع رکھتے ہیں، تاہم نیتن یاہو کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام یا غزہ میں مستقل جنگ بندی پر عدم رضامندی اس پیشرفت میں رکاوٹ ہے۔
قطر اور متحدہ عرب امارات میں ٹرمپ کے اگلے دونوں دورے بھی بنیادی طور پر اقتصادی موضوعات پر مرکوز ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق قطر کا شاہی خاندان ٹرمپ کو ایک پرتعیش بوئنگ 747-8 طیارہ تحفے میں دے سکتا ہے، جسے بعد میں ”ایئر فورس ون“ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر ماہرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یہ طیارہ اپنی صدارتی لائبریری کے لیے عطیہ کر دیں گے تاکہ مدت صدارت کے بعد استعمال ہو سکے۔


Comments
Comments are closed.