اسرائیل کا یمن کی الحدیدہ پورٹ پر حملہ، ایک شخص جاں بحق، 35 زخمی
اسرائیلی فوج نے یمن کے الحدیدہ پورٹ پر فضائی حملے کیے، یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایران کے حامی حوثیوں نے اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب ایک روز قبل میزائل داغا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے الحدیدہ اور اس کے اردگرد حوثی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔
حوثی باغیوں کے زیر انتظام صبا نیوز ایجنسی نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور کم از کم 35 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے حملوں کے بعد بندرگاہ اور سیمنٹ فیکٹری کے آس پاس کے علاقے کو بند کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ پر ہونے والے نقصان کی شدت کا علم نہیں ہے، تاہم حملوں کی شدت اور آگ نے کنٹینرز کی برتھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ذرائع نے بندرگاہ کی پانچ گودیوں، گوداموں اور کسٹمز کے علاقے میں سے 70 فیصد نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔ بندرگاہ پر کام کرنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ یہ حملے اس وقت ہوئے جب دو بحری جہاز اپنا سامان اتار رہے تھے۔
پورٹ عدن کے بعد ریڈ سی میں دوسرا سب سے بڑا پورٹ ہے اور یہ یمن کی غذائی درآمدات کا تقریباً 80 فیصد ذریعہ ہے۔رہائشیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 10 سے زائد حملوں میں الحدیدہ بندرگاہ اور الحدیدہ شہر کے السلخانہ اور الحواک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، الحدیدہ کے مشرق میں واقع ایک سیمنٹ فیکٹری پر بھی چار حملے کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حوثی دہشت گردوں کی جانب سے اسرائیل کی ریاست اور اس کے شہریوں کے خلاف بار بار کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز میزائل حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جو مارچ سے جاری حملوں کی ایک سیریز میں پہلا حملہ تھا جسے اسرائیل کی فضائی دفاعی نظام روکنے میں ناکام رہا
حوثی عہدیدار عبدالقدیر المرتضیٰ نے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کو ”وہ کچھ جو سوچا بھی نہ جا سکے“ کا انتظار کرنا چاہیے۔
یمنی گروپ نے اسرائیل اور شپنگ راستوں پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جو حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے اختتام کے بعد مختصر وقفے کے بعد ہوئے ہیں۔
یمن پر کنٹرول رکھنے والے حوثی اسرائیل اور ریڈ سی میں شپنگ پر حملے کر رہے ہیں، یہ حملے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز سے جاری ہیں، اور حوثیوں کے مطابق یہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکی فورسز پیر کے روز کے حملوں میں فعال طور پر ملوث نہیں تھیں، لیکن دونوں اتحادیوں کے درمیان عمومی ہم آہنگی موجود ہے، جیسا کہ عہدیدار نے بتایا۔
اس دوران، حوثیوں کے زیر انتظام ایک تیل کمپنی نے اعلان کیا کہ اس نے تیل کی بندرگاہ راس عیسیٰ پر سامان اتارنے میں مشکلات کے باعث گاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں حوثی باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا حکم دیا تھا۔ ان حملوں میں یمن میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ اسرائیل نے گزشتہ سال دسمبر سے یمن پر اپنے حملوں کو محدود کر رکھا ہے۔
اس سے قبل پیر کو اسرائیل نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی جس میں غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنا اور فلسطینی علاقوں کی امداد کو کنٹرول کرنا شامل ہوسکتا ہے۔
غزہ میں جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں حملوں کے بعد ہوا تھا، جس میں 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 52 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔


Comments
Comments are closed.