BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر اعظم احمد عوض بن مبارک نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے حکومت میں ردوبدل نہ کرنے سمیت ”بہت سی مشکلات“ کا سامنا کرنے کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔

چھ حکومتی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حکومت کے 12 وزراء کو برطرف کرنے کی مبارک کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد ان کے اختیارات کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ سلیم صالح بن بریک کو نیا وزیر اعظم مقرر کیا جائے گا۔

مبارک کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد فروری 2024 میں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 2015 میں اس وقت نمایاں ہوئے جب حوثی ملیشیا نے انہیں اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اس وقت کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ساتھ حوثیوں کی لڑائی کے دوران یمن کے صدارتی چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

مبارک کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ نے حوثیوں کے فوجی اثاثوں کو ختم کرنے اور انہیں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

مارچ کے بعد سے اس گروپ پر مہلک حملے جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی آپریشن ہے۔

یمن ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ حوثیباغیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا جس کے بعد اسے عدن کی جنوبی بندرگاہ پر منتقل ہونا پڑا تھا۔ حوثیوں نے اب ملک کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے جن میں شمال اور مغرب میں اس کے اہم آبادی کے مراکز بھی شامل ہیں۔

Comments

Comments are closed.