BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.51 Increased By ▲ 0.31 (1.23%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.85 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
DGKC 195.68 Increased By ▲ 2.71 (1.4%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.35 Increased By ▲ 0.52 (0.98%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.56 Increased By ▲ 0.59 (3.11%)
HBL 286.22 Increased By ▲ 0.72 (0.25%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.11 Increased By ▲ 0.09 (1.12%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 87.20 Increased By ▲ 0.69 (0.8%)
OGDC 322.97 Increased By ▲ 3.01 (0.94%)
PAEL 39.81 Increased By ▲ 0.39 (0.99%)
PIBTL 17.56 Increased By ▲ 0.89 (5.34%)
PIOC 267.50 Increased By ▲ 1.44 (0.54%)
PPL 229.00 Increased By ▲ 0.82 (0.36%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.55 Increased By ▲ 0.37 (0.37%)
SSGC 27.05 Increased By ▲ 0.45 (1.69%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.58 Increased By ▲ 0.36 (4.38%)
TRG 69.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

گزشتہ ہفتے کے مضمون میں جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک معیشت کی نمو کی کارکردگی پر توجہ دی گئی تھی۔ اس میں 24-2023 میں انتہائی کم سرمایہ کاری کی سطح کے بعد 25-2024 میں ممکنہ سرمایہ کاری کے تخمینے کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔

ایک اور تجزیہ مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی کمی کا بھی کیا گیا، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ تک پہنچ گئی۔

یہ مضمون جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران ادائیگیوں کے توازن اور سرکاری مالیات میں رجحانات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ آخر میں بے روزگاری اور غربت کی صورتحال کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ادائیگیوں کا توازن ایک ملی جلی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ بات قابلِ ستائش سمجھی جا رہی ہے کہ موجودہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.9 ارب ڈالر کا مثبت سرپلس حاصل ہوا ہے، جو کہ 24-2023 کی اسی مدت میں 1.6 ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں ایک بہتر پیش رفت ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اشیاء اور خدمات کی تجارت میں خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ خسارہ 18.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 15 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، منافع کی منتقلی اور سود کی ادائیگیوں میں بھی 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفتیں عام طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

البتہ، ایک خوشگوار حیرت اس وقت سامنے آئی جب ترسیلاتِ زر میں 33.8 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ 21 ارب ڈالر سے بڑھ کر 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈالرز کی خریداری کے لیے مارکیٹ میں شمولیت نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اب ادائیگیوں کے توازن میں مالی اکاؤنٹ کی طرف رخ کرتے ہیں، تو ایک تشویشناک رجحان سامنے آتا ہے۔ 24-2023 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں مالی اکاؤنٹ میں 4.5 ارب ڈالر کا نمایاں سرپلس تھا۔ تاہم 25-2024 کی اسی مدت میں یہ خسارے میں تبدیل ہو کر 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی سطح دونوں ادوار میں 1.4 ارب ڈالر پر برقرار رہی ہے۔ تاہم، حکومت کو موصول ہونے والی خالص رقوم میں 1.6 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس مدت میں قرضوں کی فراہمی میں 1.6 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جبکہ ادائیگیوں (امورٹائزیشن) کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

نتیجتاً، کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس اور مالی اکاؤنٹ میں خسارے کے ساتھ، جولائی تا مارچ 25-2024 کے دوران ادائیگیوں کے توازن میں مجموعی طور پر صرف 0.7 ارب ڈالر کا معمولی سرپلس سامنے آیا ہے۔ 24-2023 کی اسی مدت میں یہ سرپلس 2.4 ارب ڈالر تھا، جو کہ کہیں زیادہ تھا۔

دونوں ادوار میں آئی ایم ایف سے موصول ہونے والی قرض کی قسط صرف ایک ارب ڈالر سے کچھ زیادہ رہی۔ اس طرح، 25-2024 کے پہلے نو مہینوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں صرف 1.6 ارب ڈالر کا معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ مارچ 24-2023 تک یہ اضافہ 3.6 ارب ڈالر رہا تھا۔

یہ بات واضح طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے اطمینان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگرچہ کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس موجود ہے، لیکن اسے بڑی حد تک مالی اکاؤنٹ کے خسارے نے زائل کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام میں مارچ 2025 کے اختتام تک خالص بین الاقوامی ذخائر کے لیے مقداری کارکردگی کا معیار 10,200 ملین ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے، یہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور مارچ 2025 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے ذخائر 10,676 ملین ڈالر تھے۔

اب ہم سرکاری مالیات میں رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اہم اشاریاتی ہدف ایف بی آر کی محصولات کی سطح ہے۔ تاحال 25-2024 میں ہر ماہ محصولات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جن میں مارچ کے مہینے میں 100 ارب روپے سے زائد کی کمی شامل ہے۔ مجموعی طور پر، مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران محصولات میں 703 ارب روپے کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مالی سال کے اختتام تک محصولات میں کمی 1,000 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

بظاہر آئی ایم ایف نے 25-2024 میں ایف بی آر کے ہدف میں 579 ارب روپے کی کمی کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، موجودہ شارٹ فال پہلے ہی سالانہ ہدف میں کی گئی اس کمی سے تجاوز کر چکا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اور اہم اشاریاتی ہدف صوبائی کیش سرپلس کا حجم ہے۔ مارچ 2025 کے اختتام تک اس کا ہدف 1,028 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 اپریل تک حقیقی سرپلس صرف 568 ارب روپے تھا۔

اسٹیٹ بینک کے براڈ منی (ایم ٹو) کے اعداد و شمار میں ایک رقم کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ غیر بینکی مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) کو دی جانے والی کریڈٹ میں 656 ارب روپے کے بڑے اضافے سے متعلق ہے۔ گزشتہ سال درحقیقت اس کریڈٹ میں کمی واقع ہوئی تھی۔

تاہم، ایک مثبت اشارہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے قرض لینے میں زبردست کمی آئی ہے۔ 12 اپریل 2024 تک یہ رقم 5,332 ارب روپے تھی، جو اب 11 اپریل 2025 تک کم ہو کر 2,206 ارب روپے ہو چکی ہے۔

آخر میں ہمیں بے روزگاری کی شرح اور غربت کی سطح کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک بتائی گئی ہے۔ اس میں بڑے اضافے کی ایک بڑی وجہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کا اثر بھی تھا۔

تاہم، 24-2023 میں معیشت کی شرحِ نمو محض 2.5 فیصد رہی۔ اس سے روزگار کی سطح میں صرف معمولی اضافہ ہوا ہوگا۔ لہٰذا، بے روزگاری کی شرح میں 2023 کے بعد نمایاں کمی کا امکان نہیں ہے۔

عالمی بینک نے حال ہی میں غربت کی شرح 42.3 فیصد بتائی ہے، اور ہر سال 26 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے، بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں نمایاں کمی یا استحکام آیا ہے۔ نتیجتاً، آئندہ مہینوں میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافے کا امکان کم ہے۔

مجموعی طور پر، مہنگائی کی شرح کو کم کرنے میں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن معیشت کی شرحِ نمو اب بھی بہت کم ہے۔ ادائیگیوں کا توازن اور سرکاری مالیات اب بھی نازک حالت میں ہیں۔ بدقسمتی سے، بے روزگاری اور غربت کی شرح اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.