BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
دنیا

امریکہ کا پاکستان اور بھارت سے رابطہ، ذمہ دارانہ حل پر زور

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں ذمہ دار حل کی طرف...
شائع اپ ڈیٹ

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن، پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور دونوں ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں ایک ذمہ دارانہ حل کی جانب پیش رفت کریں۔

عوامی سطح پر امریکی حکومت نے حملے کے بعد بھارت کی حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان پر کوئی تنقید نہیں کی ہے۔

بھارت نے 22 اپریل کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بدلتی ہوئی صورت حال ہے اور ہم پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے رائٹرز کو ایک ای میل بیان میں بتایا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے ساتھ متعدد سطح پر رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ تمام فریقوں کو ذمہ دارانہ حل کی طرف مل کر کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے اور پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

بھارت امریکہ کا اہم شراکت دار ہے کیونکہ واشنگٹن کا مقصد ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے جبکہ پاکستان اب بھی امریکہ کا اتحادی ہے حالانکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے 2021 میں امریکی انخلا کے بعد واشنگٹن کے لیے اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔

واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار اور فارن پالیسی میگزین کے مصنف مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ بھارت اب پاکستان کے مقابلے میں امریکہ کا زیادہ قریبی شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے کہ اگر بھارت فوجی کارروائی کرے تو امریکہ اس کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے ہمدردی رکھ سکتا ہے اور راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

کوگلمن نے یہ بھی کہا کہ روس کی جنگ میں امریکہ کی مداخلت اور یوکرین میں جاری سفارتی کوششوں کے علاوہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ ”اپنے عالمی مسائل کے ساتھ نمٹ رہی ہے“ اور اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان اور بھارت کو اپنی کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں اکیلا چھوڑ دے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کے سینئر فیلو حسین حقانی نے بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت صورتحال کو پرسکون کرنے کے لئے امریکہ کی کوئی خواہش نہیں ہے۔

بھارت کو سرحد پار سے دہشت گردی یا اس کی حمایت پر دیرینہ شکایت ہے، جبکہ پاکستان کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ بھارت اسے تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک ہر چند سال بعد خود کو اسی کشیدگی میں مبتلا کر لیتے ہیں۔

حقانی نے کہا کہ اس بار حالات کو پرسکون کرنے میں امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

Comments

Comments are closed.