پی آئی اے کی نجکاری: سینیٹ کمیٹی کا غیر فعال بولی دہندگان کو روکنے کے لیے سخت معیار کا مطالبہ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کی حکومت کی دوسری کوشش میں ’بلیو ورلڈ جیسے غیر آپریشنل بولی دہندگان‘ کو حصہ لینے سے روکنے کے لیے پری کوالیفکیشن کے معیار کو سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گزشتہ سال پی آئی اے کی فروخت کی پہلی کوشش میں پی آئی اے میں حصص کے لیے کل چھ گروپس کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا جن میں ایئر بلیو لمیٹڈ، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، ایئر عربیہ کی فلائی جناح، وائی بی ہولڈنگز پرائیویٹ، پاک ایتھنول پرائیویٹ اور رئیل اسٹیٹ کنسورشیم بلیو ورلڈ سٹی شامل ہیں۔
تاہم حکومت کو قومی ایئر لائن میں حصص کے لیے ان میں سے صرف بلیو ورلڈ سٹی سے دلچسپی ملی جس نے بعد میں نجکاری کمیشن (پی سی) کی 85.03 ارب روپے کی کم از کم توقعات پر پورا اترنے سے انکار کردیا اور پی آئی اے میں 60 فیصد حصص کے لیے 10 ارب روپے کی اپنی اصل پیشکش پر قائم رہی جس سے قومی ایئرلائن کی نجکاری کا بڈنگ کا عمل ختم ہوگیا۔
حکومت اب قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لئے ایک نیا عمل شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، اور اس مہینے کے آخر میں دلچسپی کا نیا اظہار طلب کر سکتی ہے۔
سینیٹ کمیٹی کے جمعہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 24 ادارے نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔
پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل اور زرعی ترقیاتی بینک نجکاری کی فہرست کے پہلے مرحلے میں آتے ہیں۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیز ون کے تحت آنے والے اداروں کی ایک سال میں نجکاری کی جائے گی جبکہ فیز ٹو اور تھری میں شامل اداروں کی بالترتیب تین اور پانچ سال میں نجکاری کی جائے گی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مزید اداروں کو فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
سیکرٹری پی سی عثمان اختر باجوہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش میں پی سی مزید سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں کامیاب ہوگا۔
تاہم، انہوں نے بتایا کہ لین دین کا ڈھانچہ کم و بیش وہی رہے گا۔
پی آئی اے 21 سال بعد منافع میں واپس آئی ہے اور قومی ایئرلائن نے سال 2024 میں 26.2 ارب روپے کا خالص منافع کمایا ہے۔ ایئر لائن نے 2024 کے لئے 9.3 ارب روپے کا آپریشنل منافع ریکارڈ کیا۔ پی آئی اے نے آخری بار 2003 میں منافع کمایا تھا اور بعد میں اگلی دو دہائیوں تک خسارے میں رہا۔
کمیٹی نے جمعہ کے روز نجکاری کی وزارت کے کردار اور افعال اور گزشتہ برسوں میں اس کی پیداوار کا بھی جائزہ لیا۔ نجکاری ڈویژن کے سیکرٹری حماد علی شمیمی نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈویژن کا بنیادی کردار وزارتی امور پر وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہے جس میں پارلیمانی بزنس اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شرکت بھی شامل ہے۔


Comments
Comments are closed.