انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 5 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 280 روپے 78 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو ڈالر 280.73 پر بند ہوا تھا۔
Rupee's Performance Against US Dollar Since 04 March 2025
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر نے محفوظ اثاثے سمجھنے جانے والی کرنسیوں ین اور سوئس فرانک کے مقابلے میں اپنی قدر کھو دی ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے چین پر 104فیصد ٹیرف کے نفاذ نے عالمی اسٹاک مارکیٹس پر اضطراب طاری کردیا ہے اور چینی یوآن کو بھی کم ترن سطح پر لے آیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا جو چند گھنٹوں میں نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے بیجنگ پر الزام عائد کیا کہ وہ محصولات کو پورا کرنے کے لئے یوآن میں ہیرا پھیری کررہا ہے۔
امریکی ڈالر نے یوآن آف شور کے مقابلے میں 7.4288 کی بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے، جو پہلے کی بلند ترین سطح 7.3765 سے زیادہ ہے، اور تمام نظریں چین کے مرکزی بینک پر مرکوز ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اپنے روزانہ فکسنگ میں مزید نرمی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔
امریکہ میں ممکنہ اقتصادی سست روی کے خدشات کی وجہ سے ڈالر پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ مارکیٹیں فیڈرل ریزرو سے مزید شرح سود میں کمی کی توقعات کی جانب واپس جارہی ہیں۔
فیڈرل فنڈ فیوچرز نے ایشیا میں ابتدائی تجارت کے دوران 111 بیسس پوائنٹس کی شرح کٹوتی کی توقع ظاہر کی، جو منگل کی صبح 92 بیسس پوائنٹس تھی۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں تازہ نقصان اور طویل مدتی امریکی ٹریژریز میں شدید فروخت نے محفوظ پناہ کی کرنسیوں، خاص طور پر ین اور سوئس فرانک کی مانگ کو بڑھا دیا۔

Comments
Comments are closed.