چین نے امریکا کی بلیک میلنگ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور ٹرمپ کی نئے ٹیرف کی دھمکی کے خلاف آخری دم تک لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کے باعث عالمی تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
بیجنگ کا ردعمل اس وقت آیا جب ٹرمپ نے بدھ کو چین کی جانب سے جوابی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں امریکہ کی درآمدات پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی۔
چین کی وزارتِ تجارت نے کہا کہ امریکا کی جانب سے چین کیخلاف ٹیرف بڑھانے کی دھمکی ایک غلطی کے اوپر غلطی ہے، جو ایک بار پھر امریکی طرف کی بلیک میلنگ کی نوعیت کو بے نقاب کرتی ہے۔
اگر امریکہ اپنی ضد پر قائم رہتا ہے تو چین آخر تک لڑے گا۔
چینی ساز و سامان تیار کرنے والے جیسے کہ برتن سے لے کر فرش تک، منافع میں کمی کی پیش گوئی کر رہے ہیں، نئے غیر ملکی پلانٹس کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور قیمتوں پر گاہکوں سے مذاکرات کر رہے ہیں کیونکہ وہ ٹیرت سے متاثر ہورہے ہیں۔
یورپی یونین نے ٹرمپ کے محصولات کے حملے کے جواب میں اپنے طور پر جوابی محصولات کی تجویز پیش کی جس نے درجنوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، مالیاتی منڈیوں کو بحران میں ڈال دیا اور توقعات کو تقویت دی کہ عالمی معیشت کساد کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے چند دنوں کے سخت بحران کے بعد اسٹاک مارکیٹس نے استحکام حاصل کیا جس کے نتیجے میں کچھ کاروباری رہنماؤں نے، جن میں ٹرمپ کے قریبی افراد بھی شامل ہیں، صدر سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
جاپان کا نِکِی انڈیکس منگل کو 6 فیصد بڑھا، جو پچھلے سیشن میں ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، اس کے بعد ٹرمپ اور جاپانی وزیرِاعظم شِیگرو ایشیبا کے درمیان تجارتی مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہوا۔
پیر کو چینی بلیو چپس کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 7 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آئی۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 1997 کے بعد سے بدترین دن کا سامنا کرنے کے بعد 2 فیصد اضافہ ہوا۔
یورپی اور امریکی اسٹاک فیوچرز نے بھی کئی دنوں کی کمی کے بعد مضبوط آغاز کی توقع ظاہر کی جبکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں بھاری فروخت کے بعد بازیابی دیکھنے کو ملی۔
انڈونیشیائی مارکیٹس کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جہاں اسٹاکس میں 9 فیصد کمی آئی اور روپیہ کرنسی نے ریکارڈ کم ترین سطح کو چھو لیا جب منگل کو طویل تعطیلات کے بعد تجارت کا آغاز ہوا۔
اس کے مرکزی بینک نے مداخلت کا وعدہ کیا ہے اور حالیہ دنوں میں دیگر عالمی حکام کی جانب سے اس بحران کو روکنے کی کوششوں میں شامل ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ محصولات - تمام امریکی درآمدات پر کم از کم 10فیصد اور مخصوص شرحیں 50 فیصد تک ہوں گی - امریکہ کو ایک ایسا صنعتی شعبہ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دیں گے جو ان کے مطابق تجارتی لبرلائزیشن کی دہائیوں کے دوران کمزور ہوگیا ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے واحد موقع ہے کہ وہ صورتحال کو دوبارہ ترتیب دے سکے۔ کیونکہ کوئی اور صدر وہ کام نہیں کرے گا جو میں کر رہا ہوں، یا اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگا۔
یورپ جوابی اقدامات پر نظریں جمائے ہوئے ہے
دریں اثنا یورپی کمیشن نے سویابین، میوے اور سوسیج سمیت متعدد امریکی مصنوعات پر 25 فیصد جوابی محصولات عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم بوربن وہسکی جیسی دیگر ممکنہ اشیاء کو فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ’زیرو فار زیرو‘ معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
یورپی یونین کے ٹریڈ کمشنر ماروس سیفکووچ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، “جلد یا بدیر، ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور باہمی طور پر قابل قبول سمجھوتہ تلاش کریں گے۔
27 رکنی بلاک پہلے سے موجود گاڑیوں اور دھاتوں پر محصولات کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، اور بدھ کو دیگر مصنوعات پر 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے.
واضح رہے کہ ٹرمپ نے یورپی یونین کے الکحل مشروبات پر محصولات عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔


Comments
Comments are closed.