BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

گلگت بلتستان میں واقع پاکستان کے بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کے دامن میں، پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے کسانوں نے ایک انوکھا حل نکالا ہے، انہوں نے مصنوعی برفانی مینار بنالئے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم سرما کی شدت میں کمی اور برف باری میں کمی نے ان وادیوں کو متاثر کیا ہے جو پہلے برف پگھلنے سے سیراب ہوتی تھیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اسکردو وادی کے کسانوں نے یوٹیوب سے مدد لی، جہاں انہیں لداخ کے ماہر ماحولیات سونم وانگچک کی بنائی گئی ویڈیوز سے ”آئس اسٹوپاز“ بنانے کا طریقہ ملا۔

اس تکنیک کے تحت پانی کو سردیوں میں پائپ کے ذریعے لایا جاتا ہے اور فضا میں اسپرے کیا جاتا ہے، جہاں وہ منفی درجہ حرارت میں منجمد ہو کر مخروطی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یونیورسٹی آف بلتستان کے پروفیسر ذاکر حسین کے مطابق یہ آئس اسٹوپاز بہار میں آہستہ آہستہ پگھلتے ہیں اور فصلوں کے لیے پانی مہیا کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں 13,000 گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے سوا دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، لیکن اب خطے میں برف باری کم ہو رہی ہے۔

پہلا آئس اسٹوپا 2018 میں بنایا گیا اور اب 20 سے زائد دیہات میں یہ عمل جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک 16,000 افراد کو بغیر کسی ذخیرے یا ٹینک کے پانی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔

کسان محمد رضا کے مطابق ان کے گاؤں حسین آباد میں اس سال آٹھ آئس اسٹوپاز بنائے گئے، جنہوں نے تقریباً دو کروڑ لیٹر پانی محفوظ کیا۔

اس تکنیک سے اب کسان دو یا تین بار فصل کاشت کر سکتے ہیں، جو پہلے صرف ایک بار ممکن تھا۔

یہ ایک امید کی کرن ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی خطرہ ہے، لیکن مقامی سطح پر اختراعی اقدامات اس کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.