اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز غزہ میں فوجی کارروائی میں بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بڑے علاقے قبضے میں لے کر اسرائیلی سیکیورٹی زونز میں شامل کیے جائیں گے۔
اپنے بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان علاقوں میں جہاں لڑائی جاری ہے، بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلا کیا جائے گا۔ انہوں نے غزہ کے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کا خاتمہ کریں اور اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس کریں، کیونکہ جنگ ختم کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل کتنا علاقہ قبضے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیل پہلے ہی غزہ کے اندر ایک بڑا بفر زون قائم کر چکا ہے، جو جنگ سے پہلے غزہ کی سرحدوں پر موجود ایک حفاظتی علاقے کو مزید وسعت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، ”نتساریم کوریڈور“ نامی علاقے میں ایک نیا سیکیورٹی زون بھی قائم کیا گیا ہے، جو غزہ کے وسط میں واقع ہے۔
اسی دوران، اسرائیلی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے رضاکارانہ انخلا کو آسان بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ غزہ کو مستقل طور پر خالی کروا کر امریکی کنٹرول میں ایک ساحلی سیاحتی مقام کے طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں دوبارہ غزہ پر فضائی حملے شروع کیے اور زمینی فوجیں بھیجیں، جبکہ اس سے قبل دو ماہ تک نسبتاً جنگ بندی رہی تھی، جس کا مقصد حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک امریکی حمایت یافتہ معاہدے کو عملی بنانا تھا۔
قطر اور مصر کے ثالثوں کی قیادت میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی واپسی کا سب سے مؤثر طریقہ فوجی دباؤ کا استعمال ہے۔


Comments
Comments are closed.