BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.62 Increased By ▲ 2.65 (1.37%)
FABL 89.94 Increased By ▲ 0.15 (0.17%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.58 Increased By ▲ 0.61 (3.22%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.99 Increased By ▲ 0.48 (0.55%)
OGDC 322.33 Increased By ▲ 2.37 (0.74%)
PAEL 39.91 Increased By ▲ 0.49 (1.24%)
PIBTL 16.89 Increased By ▲ 0.22 (1.32%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.26 Increased By ▲ 1.08 (0.47%)
PRL 34.84 Increased By ▲ 0.16 (0.46%)
SNGP 99.36 Increased By ▲ 0.18 (0.18%)
SSGC 27.01 Increased By ▲ 0.41 (1.54%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بینکوں کے ونڈ فال انکم ٹیکس سے متعلق کیس میں حکم امتناع ختم کرنے سے قومی خزانے کو ساڑھے گیارہ ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ جبکہ مجموعی طور پر ایک ماہ میں سرکاری خزانے کو 34.5 ارب روپے کا مالی فائدہ ہوا۔

یہ کامیابی وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے معاشی اصلاحات کے وژن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے حاصل ہوئی۔

وزیراعظم نے فنانس ایکٹ 2023 کے تحت بینکوں کی غیر متوقع آمدن پر ٹیکس سے متعلق کیسز پر حکم امتناع کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر قانون، وزیر خزانہ، اٹارنی جنرل اور چیئرمین ایف بی آر کو ان مقدمات پر دلائل کے لیے بہترین ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

گزشتہ ماہ ٹیم کی کوششوں سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے بعد 23 ارب روپے وصول کیے گئے اور اب لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے 11 ارب 50 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔

وزیراعظم نے وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر ارشد محمود لنگڑیال، سیکرٹری خزانہ امداد بوسال اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیر قانون و خزانہ اور اٹارنی جنرل کی ٹیم نے اپنی محنت سے اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان تخلیقی اور مضبوط اقدامات کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بہتر معیشت کی امید پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ 34.5 ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی اور اب یہ رقم صحت، تعلیم اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان جلد ہی اس قسم کے اقدامات سے خود کفیل ہوجائے گا۔

Comments

Comments are closed.