BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)
دنیا

ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت کئی ممالک پر سفری پابندی لگانے پر غور

  • حکومت پاکستان 60 دن کے اندر خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو ویزا کے اجراء کی جزوی معطلی پر غور کیا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور کئی دیگر ممالک کے لیے امریکی ویزا کے اجراء کو جزوی طور پر معطل کرنے پر غور کررہی ہے اگر وہ 60 دن کے اندر خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

رائٹرز کے مطابق مجموعی طور پر41 ممالک کو 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلی کیٹیگری میں دس ممالک شامل ہیں جن میں افغانستان، ایران، شام، کیوبا اور شمالی کوریا جیسے ممالک شامل ہیں جن کیلئے ویزے کی مکمل معطلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

تیسرے گروپ میں 26 ممالک شامل ہیں جن میں بیلاروس، پاکستان اور ترکمانستان جیسے ممالک شامل ہیں جن کے لیے اگر ان کی حکومتیں 60 دنوں کے اندر خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرتی ہیں تو امریکہ کے ویزے کے اجراء کی جزوی معطلی پر غور کیا جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبردار کیا کہ اس فہرست میں تبدیلیاں ہوسکتی ہیں اور امریکی وزیر خارجہ سمیت انتظامیہ کی جانب سے ابھی اس کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نیو یارک ٹائمز نے سب سے پہلے ممالک کی فہرست پر رپورٹ کیا تھا۔

یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران 7 مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے مسافروں پر عائد پابندی کی یاد دلاتا ہے جو کئی مراحل سے گزری اور 2018 میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس کی توثیق کی گئی۔

ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کسی بھی غیر ملکی کی سیکیورٹی کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا تاکہ قومی سلامتی کے خطرات کا پتہ چلایا جاسکے۔

اس آرڈر میں کابینہ کے متعدد ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 21 مارچ تک ان ممالک کی فہرست پیش کریں جن سے سفر جزوی یا مکمل طور پر معطل کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کی معلومات بہت کم ہیں۔

ٹرمپ کی یہ ہدایت امیگریشن کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کا آغاز انہوں نے اپنی دوسری مدتِ کے آغاز میں کیا تھا۔

ٹرمپ نے اکتوبر 2023 میں ایک تقریر میں اپنے منصوبے کا خاکہ پیش کیا، جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور ”کسی بھی ایسے مقام سے لوگوں پر پابندی عائد کرنے کا وعدہ کیا جو ہماری سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔“

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے فوری طور پر رائٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

**دفتر خارجہ کی پاکستان پر پابندی کی تردید **

جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے واضح کیا تھا کہ اس طرح کی سفری پابندی کا کوئی باضابطہ اشارہ موصول نہیں ہوا ہے۔

انہوں نےکہا کہ یہ رپورٹس محض قیاس آرائیاں ہیں اور مزید تفصیلات کے لیے وزارت خارجہ امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے حالیہ میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں پاکستانی باشندوں پر امریکہ میں داخلے پر ممکنہ پابندی کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس وقت تک، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ اور واشنگٹن میں ہمارا مشن متعلقہ امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ اس حوالے سے کوئی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ ابھی تک ہمیں پاکستانی باشندوں پر ایسی پابندی کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

Comments

Comments are closed.