وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دو ریاستی حل کے تحت فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کے دوران انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے دو ریاستی حل کیلئے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیا جس میں فلسطین کی ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہو جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا سرکاری دورے پر وزیراعظم آفس میں استقبال کیا۔
وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر ترک صدر کا وزیراعظم نے پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے فلائی پاسٹ کا مشاہدہ کیا اور وزیراعظم ہاؤس کے لان میں پودا لگایا۔
شہباز شریف نے دو ریاستی حل کے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیا جس میں اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانا شامل ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے فلسطینی باشندوں کو دوبارہ آباد کرنے اور انکلیو کی تعمیر نو سے متعلق حالیہ متنازعہ بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ کے تقریبا 2.2 ملین فلسطینیوں کو مصر، اردن اور دیگر ممالک میں آباد کیا جائے گا اور امریکہ ساحلی علاقے کا کنٹرول اور ملکیت حاصل کر لے گا اور اسے ”مشرق وسطیٰ کے ریویرا“ میں تبدیل کر دے گا۔
دریں اثنا وزیر اعظم نے تنازعہ جموں و کشمیر پر صدر اردوغان کے مضبوط، مستقل اور اصولی موقف پر ان کا شکریہ ادا کیا اور قومی مفاد کے بنیادی امور پر ترکی کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.