BR100 Increased By (0.4%)
BR30 Increased By (0.6%)
KSE100 Increased By (0.29%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.35 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
BOP 34.26 Increased By ▲ 0.27 (0.79%)
CNERGY 8.14 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 194.95 Increased By ▲ 1.98 (1.03%)
FABL 89.85 Increased By ▲ 0.06 (0.07%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.62 Increased By ▲ 0.65 (3.43%)
HBL 286.20 Increased By ▲ 0.70 (0.25%)
HUBC 214.90 Increased By ▲ 0.52 (0.24%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.49 (0.57%)
OGDC 322.10 Increased By ▲ 2.14 (0.67%)
PAEL 39.70 Increased By ▲ 0.28 (0.71%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 268.50 Increased By ▲ 2.44 (0.92%)
PPL 228.79 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 27.01 Increased By ▲ 0.41 (1.54%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی ایس ایکس: پی آر ایل) نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں 168.88 ارب روپے کی خالص فروخت رپورٹ کی، جو سالانہ بنیادوں پر 7.3 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ سیلز کی لاگت میں معمولی 1.1 فیصد کمی آئی جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں سالانہ 84.3 فیصد نمایاں کمی واقع ہوئی، جو 2.12 ارب روپے تک محدود رہا جبکہ مجموعی مارجن 7.41 فیصد سے گھٹ کر صرف 1.26 فیصد رہ گیا۔

آپریٹنگ اخراجات، خاص طور پر انتظامی اخراجات، سالانہ بنیادوں پر 21.8 فیصد بڑھ گئے۔ لاگت پر قابو پانے کے اقدامات کے باوجود پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کو 428 ملین روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا جو مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

رواں مالی سال جولائی تا دسمبر ریفائنری کو 2 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں کمپنی کو 6.51 ارب روپے کا منافع ہوا تھا۔ منافع میں نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات کم مجموعی مارجن، کم آپریٹنگ آمدنی اور بڑھا ہوا ٹیکس بوجھ ہے۔

اگرچہ پی آر ایل نے مالی سال 25 میں مشکلات کا سامنا کیا لیکن مالی سال 24 میں کمپنی نے والیومیٹرک گروتھ حاصل کی، خاص طور پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور ایم ایس -92 کی پیداوار میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ کمپنی اپنی ریفائنری کی ترتیب کے مطابق خام تیل کی کھپت کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے، ایسے خام تیل کو ترجیح دی جارہی ہے جو زیادہ بہتر پیداوار اور منافع بخش نتائج فراہم کرسکے۔ اہم اپ گریڈز میں ریفائنری ایکسپینشن اینڈ اپگریڈیشن پروجیکٹ (آر ای یو پی) شامل ہے، جس کا مقصد یورو-V معیارات پر پورا اترنے والے ایندھن (ایچ ایس ڈی اور ایم ایس) کی پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، جدید ڈیپ کنورژن ریفائنری ٹیکنالوجی کی تنصیب سے فرنس آئل کی پیداوار کو کم سے کم کرنا اور ریفائنری کی گنجائش کو 50,000 بیرل یومیہ سے بڑھا کر 100,000 بیرل یومیہ کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

مجموعی طور پر ریفائننگ سیکٹر کو کمزور طلب، درآمدی اور اسمگل شدہ ایندھن سے مسابقت کے باعث منافع میں شدید گراوٹ کا سامنا ہے۔ پالیسیوں کے نفاذ میں تاخیر اور ڈیزل کی اسمگلنگ جیسے مسائل آپریشنل استحکام کے لیے بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

پی آر ایل کی طویل مدتی حکمت عملی اس کے ریفائنری ایکسپینشن اینڈ اپگریڈیشن پروجیکٹ (آر ای یو پی) پر مبنی ہے جو پیداواری صلاحیت، کارکردگی اور ماحولیاتی تقاضوں میں بہتری کا وعدہ کرتا ہے۔ریفائنری کا فرنس آئل کی پیداوار میں کمی کا عزم ملکی توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف منتقلی سے ہم آہنگ ہے، تاہم قریبی مدت میں منافع کے امکانات کمزور رہیں گے جب تک کہ مارجن میں بہتری نہ آئے اور پالیسی کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی جائیں۔

Comments

Comments are closed.