BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.06%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.73 Increased By ▲ 0.29 (0.5%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.34 (1.35%)
BOP 34.37 Increased By ▲ 0.38 (1.12%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.28 (1.48%)
HBL 287.05 Increased By ▲ 1.55 (0.54%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 322.65 Increased By ▲ 2.69 (0.84%)
PAEL 39.98 Increased By ▲ 0.56 (1.42%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 271.51 Increased By ▲ 5.45 (2.05%)
PPL 229.28 Increased By ▲ 1.10 (0.48%)
PRL 34.91 Increased By ▲ 0.23 (0.66%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 26.89 Increased By ▲ 0.29 (1.09%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.71 Increased By ▲ 0.49 (5.96%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیتے ہوئے افغان علاقے میں فتنہ الخواج کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی میں ان کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

آرمی چیف نے یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا یا پاکستان کے کسی بھی خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری نہیں ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور میں خیبر پختونخوا کے سیاسی رہنماؤں سے اہم ملاقات کی جس میں خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران جنرل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی پالیسی صرف پاکستان کے استحکام اور خودمختاری پر مرکوز ہے۔

انہوں نے اپنے ہمسایہ برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اعادہ کیا۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے خدشات افغان سرزمین پر ”فتنہ الخواراج“ کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اختلافات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک افغانستان اس مسئلے کو موثر طریقے سے حل نہیں کرتا۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ کے پی یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بجائے، سیکورٹی فورسز مخصوص خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹارگٹڈ، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے فساد پھیلانے کے خلاف قرآنی اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اجتماعی اتحاد پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اور سماجی طبقات کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے اور مل کر کام کرنے سے صورتحال میں تیزی سے بہتری آئے گی۔

جنرل عاصم منیر نے تسلیم کیا کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے ان کو پہچاننے اور ان سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلح افواج اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے جھوٹے بیانیے کی مذمت کی اور اس طرح کے پروپیگنڈے کو غیر ملکی ایجنڈے سے منسوب کیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر فوری اور موثر عمل درآمد کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.