BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-0.79%)
KSE100 Decreased By (-0.43%)
KSE30 Decreased By (-0.4%)
BAFL 56.37 Decreased By ▼ -0.10 (-0.18%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.99 Decreased By ▼ -0.13 (-0.43%)
CNERGY 12.79 Decreased By ▼ -0.19 (-1.46%)
DFML 18.07 Increased By ▲ 0.58 (3.32%)
DGKC 185.75 Decreased By ▼ -1.47 (-0.79%)
FABL 93.39 Decreased By ▼ -0.32 (-0.34%)
FCCL 51.07 Decreased By ▼ -0.58 (-1.12%)
FFL 14.49 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 301.88 Decreased By ▼ -1.90 (-0.63%)
HUBC 198.00 Decreased By ▼ -0.96 (-0.48%)
HUMNL 9.83 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.05 Decreased By ▼ -0.12 (-0.46%)
MLCF 89.69 Decreased By ▼ -1.54 (-1.69%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.90 Decreased By ▼ -0.34 (-0.96%)
PIBTL 14.36 Decreased By ▼ -0.35 (-2.38%)
PIOC 235.99 Decreased By ▼ -3.63 (-1.51%)
PPL 218.98 Decreased By ▼ -2.38 (-1.08%)
PRL 91.65 Increased By ▲ 0.43 (0.47%)
SNGP 90.64 Decreased By ▼ -0.23 (-0.25%)
SSGC 23.31 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.47 Decreased By ▼ -0.14 (-1.84%)
TPLP 12.17 Decreased By ▼ -0.39 (-3.11%)
TRG 55.20 Decreased By ▼ -0.59 (-1.06%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیتے ہوئے افغان علاقے میں فتنہ الخواج کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی میں ان کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

آرمی چیف نے یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا یا پاکستان کے کسی بھی خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری نہیں ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور میں خیبر پختونخوا کے سیاسی رہنماؤں سے اہم ملاقات کی جس میں خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران جنرل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی پالیسی صرف پاکستان کے استحکام اور خودمختاری پر مرکوز ہے۔

انہوں نے اپنے ہمسایہ برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اعادہ کیا۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے خدشات افغان سرزمین پر ”فتنہ الخواراج“ کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اختلافات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک افغانستان اس مسئلے کو موثر طریقے سے حل نہیں کرتا۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ کے پی یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بجائے، سیکورٹی فورسز مخصوص خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹارگٹڈ، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے فساد پھیلانے کے خلاف قرآنی اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اجتماعی اتحاد پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اور سماجی طبقات کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے اور مل کر کام کرنے سے صورتحال میں تیزی سے بہتری آئے گی۔

جنرل عاصم منیر نے تسلیم کیا کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے ان کو پہچاننے اور ان سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلح افواج اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے جھوٹے بیانیے کی مذمت کی اور اس طرح کے پروپیگنڈے کو غیر ملکی ایجنڈے سے منسوب کیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر فوری اور موثر عمل درآمد کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.