BR100 Increased By (1.4%)
BR30 Increased By (1.45%)
KSE100 Increased By (1.09%)
KSE30 Increased By (1.29%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.48 (0.83%)
BIPL 27.05 Increased By ▲ 0.05 (0.19%)
BOP 33.87 Increased By ▲ 0.38 (1.13%)
CNERGY 11.03 Increased By ▲ 0.29 (2.7%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.32 (1.8%)
DGKC 214.34 Increased By ▲ 7.03 (3.39%)
FABL 100.85 Increased By ▲ 0.49 (0.49%)
FCCL 55.63 Increased By ▲ 1.45 (2.68%)
FFL 16.14 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
GGL 23.75 Increased By ▲ 0.84 (3.67%)
HBL 308.76 Increased By ▲ 5.09 (1.68%)
HUBC 219.80 Increased By ▲ 2.68 (1.23%)
HUMNL 10.71 Increased By ▲ 0.09 (0.85%)
KEL 7.28 Increased By ▲ 0.10 (1.39%)
LOTCHEM 27.10 Increased By ▲ 0.13 (0.48%)
MLCF 97.31 Increased By ▲ 2.44 (2.57%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 3.96 (1.26%)
PAEL 42.70 Increased By ▲ 0.43 (1.02%)
PIBTL 17.07 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 273.89 Increased By ▲ 4.44 (1.65%)
PPL 220.00 Increased By ▲ 3.79 (1.75%)
PRL 62.75 Increased By ▲ 2.61 (4.34%)
SNGP 104.70 Increased By ▲ 1.81 (1.76%)
SSGC 25.72 Increased By ▲ 0.44 (1.74%)
TELE 8.44 Increased By ▲ 0.19 (2.3%)
TPLP 14.67 Increased By ▲ 1.30 (9.72%)
TRG 60.50 Decreased By ▼ -0.35 (-0.58%)
UNITY 10.03 Increased By ▲ 0.07 (0.7%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)

2025 اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ایران کے لئے ایک اہم سال ہوگا۔ اسرائیلی رہنما نے غزہ پر اپنی فوجی جارحیت کو مضبوط بنانے، ایران کے جوہری عزائم کو ناکام بنانے اور تہران کے مبینہ اتحادیوں فلسطینی حماس اور لبنان کی حزب اللہ کی کمر توڑنے اور شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے اہداف کو مضبوط بنانے کی تیاری کرلی ہے۔

بشار الاسد کا خاتمہ، حماس اور حزب اللہ کے سرکردہ رہنماؤں کا قتل اور ان کے فوجی ڈھانچے کی تباہی نیتن یاہو کے لیے ایک کے بعد ایک یادگار کامیابیوں کی علامت ہے۔ نیتن یاہو ایران کے جوہری عزائم اور میزائل پروگرام پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار ہیں اور اسرائیل کو درپیش ان تزویراتی خطرات کو ختم کرنے اور انہیں غیر موثر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سامنے ایک واضح انتخاب ہے کہ یا تو وہ اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام جاری رکھے یا اپنی جوہری سرگرمیاں کم کرے اور مذاکرات پر رضامند ہو جائے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کے ڈائریکٹر جوسٹ آر ہلٹرمین نے کہا کہ ایران کو اسرائیل کے ممکنہ حملے کا خطرہ لاحق ہے، خاص طور پر اس کے جوہری پروگرام کے خلاف بہت سنجیدہ نوعیت کا خدشہ ہے۔ اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی، لیکن اس سے ایران سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ فلسطینی تجزیہ کار غسان الخطیب نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ (ایرانی) پیچھے نہیں ہٹتے تو ٹرمپ اور نیتن یاہو حملے کر سکتے ہیں کیونکہ اب کوئی چیز انہیں نہیں روک سکتی۔ خطیب نے دلیل دی کہ ایرانی قیادت، جو ماضی میں عملیت پسندی کا مظاہرہ کر چکی ہے، فوجی محاذ آرائی سے بچنے کے لیے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ جنہوں نے 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی، جو تہران کے جوہری اہداف کو محدود کرنے کے لیے تھا، امکان ہے کہ ایران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں مزید سخت کریں گے حالانکہ تنقید کرنے والوں کی جانب سے مذاکرات کی طرف واپس جانے کی اپیل کی جارہی ہے، جو سفارتکاری کو طویل مدتی پالیسی کے طور پر زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔

وراثت کی تعریف

ایران اور غزہ کے بحران کے دوران نیتن یاہو کا طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کا مقدمہ، جو دسمبر میں دوبارہ شروع ہوا، ان کی وراثت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 2023 میں غزہ کے بحران کے آغاز کے بعد پہلی بار نیتن یاہو نے ان مقدمات میں اپنا موقف پیش کیا ہے، جو اسرائیلیوں میں شدید تقسیم کا باعث بنا ہے۔

مذاکرات کے قریبی ذرائع کے مطابق 2024 کے اختتام کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم ممکنہ طور پر غزہ میں 14 ماہ سے جاری جارحیت کو روکنے اور غزہ وادی میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند ہوں گے۔ لیکن غزہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں رہے گا کیونکہ جنگ کے بعد اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو اقتدار سونپنے کے امریکی منصوبے کی عدم موجودگی میں، جسے نیتن یاہو مسترد کرتے ہیں۔ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے یا زوال پذیر فلسطینی اتھارٹی ( پی اے) پر دباؤ ڈالنے کے لیے بہت معمولی حمایت کا اظہار کیا ہے تاکہ وہ اپنی قیادت کوبہتر کرتے ہوئے علاقے کا کنٹرول سنبھال سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مستقبل قریب میں غزہ میں فوجی طور پر موجود رہے گا کیونکہ کسی بھی انخلا سے حماس کی تنظیم نو کا خطرہ ہے۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ فوجی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ غزہ میں رہنا ہے۔

نیتن یاہو کے لیے اس طرح کے نتائج ایک تزویراتی فتح کی علامت ہوں گے، جو ان کے وژن سے مطابقت رکھتے ہیں: غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کے طویل مدتی کنٹرول کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کی حیثیت کو روکنا ۔

غزہ کا بحران اس وقت شروع ہوا جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا جس میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل کے صحت حکام کا کہنا ہے کہ اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی اور زمینی حملے کیے جس کے نتیجے میں اب تک 45 ہزار افراد (فسلطینی) جاں بحق ہو چکے ہیں، 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور زیادہ تر علاقے کھنڈرات بن چکے ہیں۔

عرب اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے معاہدے سے غزہ دشمنی کا فوری خاتمہ ہو جائے گا لیکن اس سے کئی دہائیوں سے جاری فلسطینی اسرائیل تنازع حل نہیں ہوگا۔

زمینی سطح پر، فلسطینی ریاست کے امکانات، جسے نیتن یاہو کی حکومت نے بار بار مسترد کر دیا ہے، تیزی سے ناممکن ہوتا جا رہا ہے، اسرائیلی آباد کار رہنما پرامید ہیں کہ ٹرمپ ان کے خیالات کے ساتھ قریب سے مطابقت رکھیں گے۔

آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ اور آبادکاروں کی تحریک کا بڑھتا ہوا اعتماد – مغربی کنارے کے کچھ علاقوں میں شاہراہوں کے بل بورڈز عربی میں ”فلسطین میں کوئی مستقبل نہیں“ کا پیغام دیتے ہیں - فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

کرائسز گروپ کے ہلٹر مین نے کہا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ تنازع کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالے تو “کوئی بھی حل اسرائیل کی شرائط پر ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کا معاملہ ختم ہو چکا ہے مگر فلسطینی ابھی بھی وہاں موجود ہیں۔ ٹرمپ کے پچھلے دورِ حکومت میں نیتن یاہو نے کئی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ”ڈیل آف دی سینچری“ بھی شامل ہے جو ایک امریکی حمایت یافتہ امن منصوبہ تھا جسے ٹرمپ نے 2020 میں اسرائیل- فلسطین تنازع کے حل کے لیے پیش کیا۔

اگراس منصوبے پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو یہ امریکی پالیسی اور بین الاقوامی معاہدوں میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرے گا کیونکہ یہ اسرائیل کے حق میں واضح طور پر ہم آہنگی ظاہر کرتا ہے اور تاریخی طور پر مذاکرات کی رہنمائی کرنے والے زمین کے بدلے امن کے طویل عرصے سے قائم فریم ورک سے واضح انحراف کرتا ہے۔

اس سے اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور وادی اردن سمیت زمین کے وسیع حصے کو ضم کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ بیت المقدس کو ”اسرائیل کے غیر منقسم دارالحکومت“ کے طور پر بھی تسلیم کرے گا - مشرقی بیت المقدس کو ان کا دارالحکومت قرار دینے کے فلسطینی دعوؤں کو مؤثر طریقے سے مسترد کرے گا جو ان کی ریاست کے مقاصد اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک مرکزی خواہش ہے۔

شام نازک دوراہے پر کھڑا ہے اسرائیل سے سرحد کے اس پار، حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی باغی افواج کی طرف سے بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد شام ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جس کی قیادت احمد الشرع عرف ابو محمد الجیلانی کر رہے ہیں۔ گولانی کو اب ایک ٹوٹے پھوٹے شام پر کنٹرول کو مستحکم کرنے کے اہم کام کا سامنا ہے، جہاں فوج اور پولیس فورس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایچ ٹی ایس کو شروع سے ہی تعمیر نو کرنی ہوگی، سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا اور اسد حکومت کی باقیات اور دیگر مخالفین کے خطرات کے خلاف داخلی استحکام کو برقرار رکھنا ہوگا۔

شامیوں اور مبصرین میں سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ آیا ایچ ٹی ایس، جو کبھی القاعدہ سے منسلک تھی، لیکن اب قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے خود کو شامی قوم پرست قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

اس توازن کو برقرار رکھنے کی اس گروپ کی اہلیت یا ناکامی شام کے مستقبل کو تشکیل دے گی، جہاں سنی، شیعہ، علوی، کرد، دروز اور عیسائیوں کی متنوع برادریاں آباد ہیں۔

Comments

Comments are closed.