BR100 Decreased By (-0.39%)
BR30 Decreased By (-0.21%)
KSE100 Decreased By (-0.39%)
KSE30 Decreased By (-0.51%)
BAFL 56.98 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
BOP 34.25 Increased By ▲ 0.22 (0.65%)
CNERGY 10.02 Increased By ▲ 0.06 (0.6%)
DFML 18.29 Increased By ▲ 0.16 (0.88%)
DGKC 206.10 Decreased By ▼ -0.41 (-0.2%)
FABL 100.42 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 54.35 Decreased By ▼ -0.35 (-0.64%)
FFL 16.64 Decreased By ▼ -0.05 (-0.3%)
GGL 25.14 Increased By ▲ 0.35 (1.41%)
HBL 301.00 Decreased By ▼ -1.35 (-0.45%)
HUBC 217.99 Decreased By ▼ -1.39 (-0.63%)
HUMNL 10.70 Increased By ▲ 0.30 (2.88%)
KEL 7.29 Decreased By ▼ -0.11 (-1.49%)
LOTCHEM 29.28 Decreased By ▼ -0.04 (-0.14%)
MLCF 93.75 Decreased By ▼ -0.61 (-0.65%)
OGDC 315.76 Decreased By ▼ -0.08 (-0.03%)
PAEL 42.90 Decreased By ▼ -0.30 (-0.69%)
PIBTL 16.65 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 305.00 Increased By ▲ 7.90 (2.66%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.35%)
PRL 50.10 Increased By ▲ 0.91 (1.85%)
SNGP 102.48 Decreased By ▼ -2.42 (-2.31%)
SSGC 27.68 Decreased By ▼ -0.57 (-2.02%)
TELE 8.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.46%)
TPLP 13.56 Increased By ▲ 0.29 (2.19%)
TRG 60.19 Increased By ▲ 0.05 (0.08%)
UNITY 10.39 Decreased By ▼ -0.04 (-0.38%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں حکومت کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 پر بحث بے نتیجہ رہی اور کمیٹی نے مجوزہ قانون سازی پر مزید غور و خوض کیا۔

منگل کو ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت سید امین الحق نے کی۔

وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہشام خان نے بھی مجوزہ قانون سازی پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ عالمی طریقوں اور معیارات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے اور اس ڈیجیٹل تبدیلی سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔

شیزہ فاطمہ نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی اقدام ہے۔ اس قانون سے ریڈ ٹیپ اور دیگر چیلنجز کا خاتمہ ہوگا اور وزارتوں میں بیوروکریٹک تاخیر کو بھی دور کیا جائے گا۔ صحت کے شعبے کو فائدہ ہوگا کیونکہ اس نظام سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

اس نظام کو فوری طور پر متحرک کرنے کے لئے فنڈز دستیاب ہیں کیونکہ عالمی بینک نے ڈی آئی پی (ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ) کے لئے 78 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی ہے۔ ڈی آئی پی منصوبے کے تحت قانون تیار کیا گیا ہے جو اس نظام کو قائم کرے گا۔ اس کا مقصد 14 اگست 2025 تک ڈیجیٹل تبدیلی کے لئے بنیادی ڈھانچہ متعارف کروانا ہے۔ تمام موجودہ ڈیٹا بیس کو اس نظام سے منسلک کیا جائے گا.

چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو نیشنل ڈیجیٹل کمیشن میں شامل کیا جائے گا۔

کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن بل پر مزید بحث کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ اقدام اچھا ہے، لیکن ممبران کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ بل میں ایک کمیشن اور ایک اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں خاص طور پر ”ڈیٹا ایکسچینج لیر“ کے بارے میں ابہام ہے۔ یہ بل کل پیش کیا گیا تھا اور اب اس کی منظوری لی جا رہی ہے۔

آخر میں قائمہ کمیٹی نے ڈیجیٹل نیشن بل پر مزید تبادلہ خیال کے لئے بدھ (آج) کو دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.