BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.53%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں 4 ہزار 372 مقدمات نمٹا دیے۔

سپریم کورٹ نے 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک کی رپورٹ جاری کردی، اعلامیہ کے مطابق ایک ماہ کے دوران 1853 نئے مقدمات دائر ہوئےجب کہ 4372 مقدمات نمٹائے گئے۔

پی آر او آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں انصاف کی فراہمی میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔

یہ کامیابیاں کیسز کے بیک لاگ کو ختم کرنے اور بروقت انصاف فراہم کرنے کی طرف ایک نیا جذبہ ظاہر کرتی ہیں۔ چیف جسٹس اور ججوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے انتھک کام کیا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت عوام کی ضروریات کو پورا کرتی رہے۔

مقدمات کو نمٹانے میں تیزی لانے کے علاوہ چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات کو اپنے ایجنڈے میں سب سے آگے رکھا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہوں نے اہم شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے متعدد سیشنز کی صدارت کی ہے جن میں عدالتی کارروائیوں کو جدید بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پیش رفت، کیس مینجمنٹ کے عمل میں بہتری اور انسانی وسائل کو بہتر بنانا شامل ہے۔

ان کوششوں کا مقصد ورک فلو کو ہموار کرنا ، تاخیر کو کم کرنا اور عدالتی عملے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے جوڈیشل افسران اور عملے کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے لیے استعداد کار بڑھانے اور تربیت کے اقدامات کو بھی ترجیح دی ہے۔

عوامی شمولیت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے چیف جسٹس نے فیڈ بیک میکانزم کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع تر مشاورت پر زور دیا ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ کو زیادہ شفاف، قابل رسائی اور شہریوں پر مرکوز بنانے کے لئے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ فوری طور پر انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.