BR100 Increased By (1.25%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (1.07%)
KSE30 Increased By (1.1%)
BAFL 57.78 Increased By ▲ 0.58 (1.01%)
BIPL 27.37 Increased By ▲ 0.48 (1.79%)
BOP 34.52 Increased By ▲ 0.83 (2.46%)
CNERGY 10.88 Increased By ▲ 0.27 (2.54%)
DFML 18.27 Increased By ▲ 0.22 (1.22%)
DGKC 211.78 Increased By ▲ 1.88 (0.9%)
FABL 101.43 Increased By ▲ 2.48 (2.51%)
FCCL 54.55 Increased By ▲ 0.81 (1.51%)
FFL 16.69 Increased By ▲ 0.23 (1.4%)
GGL 24.50 Increased By ▲ 0.68 (2.85%)
HBL 306.00 Increased By ▲ 3.58 (1.18%)
HUBC 221.49 Increased By ▲ 2.55 (1.16%)
HUMNL 10.69 Increased By ▲ 0.15 (1.42%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 29.88 Increased By ▲ 0.23 (0.78%)
MLCF 96.91 Increased By ▲ 0.55 (0.57%)
OGDC 321.00 Increased By ▲ 2.78 (0.87%)
PAEL 42.76 Increased By ▲ 0.99 (2.37%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.34 (2.02%)
PIOC 299.51 Increased By ▲ 2.89 (0.97%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 3.32 (1.51%)
PRL 52.05 Increased By ▲ 3.00 (6.12%)
SNGP 107.89 Increased By ▲ 1.76 (1.66%)
SSGC 29.58 Increased By ▲ 0.44 (1.51%)
TELE 9.01 Increased By ▲ 0.19 (2.15%)
TPLP 12.92 Increased By ▲ 0.41 (3.28%)
TRG 60.60 Increased By ▲ 0.38 (0.63%)
UNITY 10.16 Increased By ▲ 0.14 (1.4%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج نے مسلسل قومی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور اب اس کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات میں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے مظاہروں میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی ماضی میں چینی صدر کے دورے سمیت اہم سفارتی واقعات میں خلل ڈالنے کی تاریخ رکھتی ہے اور اب بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے آئندہ دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، اس کے باوجود پی ٹی آئی اہم مواقع پر احتجاج کی کال دے رہی ہے۔

عطا تارڑ نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر گزشتہ سال کے 32 فیصد سے کم ہو کر اس سال 6.9 فیصد ہو گیا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زر کی مد میں 8.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور شرح سود کم ہو کر 15 فیصد رہ گئی جس سے معاشی بہتری کو فروغ ملا۔

مزید برآں، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ مثبت معاشی اشاریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دنیا کی دوسری بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مارکیٹ کے طور پر ابھری ہے۔

وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کی جانب سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی مبینہ کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیلاروس پاکستان کا قریبی اتحادی ہے اور دونوں ممالک ٹریکٹر مینوفیکچرنگ جیسے منصوبوں پر تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرتشدد مظاہروں، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور بدامنی بھڑکانے سمیت قومی ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کے پی ٹی آئی کے ہتھکنڈوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں جبکہ صوبائی قیادت اپنے خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے بجائے سیاسی ڈراموں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

انہوں نے صوبے میں زیادہ سے زیادہ احتساب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

پی ٹی آئی کی اندرونی تقسیم کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہیں دھڑے بندی اور غیر منظم جماعت قرار دیا۔ انہوں نے پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے رہی ہے اور سیاسی فائدے کے لئے مذہب اور سفارت کاری جیسے حساس معاملات کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.