BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
دنیا

بھاری قرض میں مقروض سری لنکا میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

بھاری قرض میں ڈوبا ہوا سری لنکا اپنے اقتصادی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے انتخابات میں ووٹ دے رہا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

سری لنکا کے لاکھوں شہریوں نے ہفتے کو ووٹ کاسٹ کررہے ہیں تاکہ ایک ایسے صدر کا انتخاب کیا جا سکے جو جنوبی ایشیائی ملک کی کمزور اقتصادی بحالی کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری اٹھائے، جو کہ کئی دہائیوں میں اس کے بدترین مالی بحران کے بعد کی صورتحال ہے۔

سری لنکا کی 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی میں سے 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جس میں صدر رانیل وکرم سنگھے، اہم اپوزیشن رہنما سجیت پریماداسا اور مارکسوادی جھکاؤ رکھنے والے امیدوار انورا کمارا ڈسانائکے کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

دارالحکومت کولمبو کے شہری ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پولنگ بوتھ کے باہر قطار میں کھڑے ہوگئے، جن کی حفاظت سیکیورٹی اہلکار کر رہے تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، ملک بھر میں ووٹنگ پرامن طور پر جاری ہے۔ ووٹوں کی گنتی مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ختم ہوگی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔

توقع ہے کہ الیکشن کمیشن اتوار کو فاتح کا اعلان کرے گا۔ سری لنکا کے الیکشن کمیشن کے سربراہ آر ایم ایل رتھنائیکے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ملک بھر میں 13 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور انتخابات کے انتظام کے لیے ڈھائی لاکھ سرکاری اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ سال 2022 میں سری لنکا کی معیشت کو غیر ملکی زرمبادلہ کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے، اقتصادی بحران کی وجہ سے بحر ہند کا یہ جزیرہ ایندھن، ادویات اور کھانا پکانے کی گیس سمیت ضروری اشیاء کی درآمد ات کے لیے ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔

سال 2022 میں ہزاروں مظاہرین نے کولمبو میں مارچ کیا تھا اور صدر کے دفتر اور رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا تھا، جس کی وجہ سے اس وقت کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے کو بھاگنے اور بعد میں استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے 2.9 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی مدد سے، سری لنکا کی معیشت میں محتاط بحالی نظر آ رہی ہے، لیکن بلند مہنگائی کا مسئلہ اب بھی بہت سے ووٹرز کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

اگرچہ مہنگائی پچھلے مہینے 70فیصد کی بلند سطح سے کم ہوکر 0.5 فیصد پر آ گئی ہے، اور 2024 میں معیشت کی پہلی بار ترقی کی توقع ہے، لیکن لاکھوں لوگ غربت اور قرض میں جکڑے ہوئے ہیں، اور بہت سے لوگ اپنے اگلے رہنما پر بہتر مستقبل کی امیدیں لگا رہے ہیں۔

جو بھی انتخابات جیتے گا اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سری لنکا 2027 تک آئی ایم ایف کے پروگرام پر قائم رہے تاکہ اس کی معیشت مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن رہے، مارکیٹوں کو مطمئن کرے، سرمایہ کاروں کو راغب کرے اور اپنے ایک چوتھائی لوگوں کو بحران کی وجہ سے غربت سے نکالنے میں مدد دے۔

وزیر خارجہ علی صابری نے وکرم سنگھے کی حمایت میں ایکس پر پوسٹ کیا کہ آج انتخابات میں آپ کا فیصلہ نہ صرف آئندہ 5 سال کے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ہماری قوم کے مستقبل کو تشکیل دے گا۔

جو بھی انتخابات جیتے گا اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سری لنکا 2027 تک آئی ایم ایف کے پروگرام پر قائم رہے تاکہ اس کی معیشت مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن رہے، مارکیٹوں کو مطمئن کرے، سرمایہ کاروں کو راغب کرے اور اپنے ایک چوتھائی لوگوں کو بحران کی وجہ سے غربت سے نکالنے میں مدد دے۔

اپنے ووٹ کو دانشمندی سے استعمال کریں تاکہ سری لنکا اپنی بحالی کو جاری رکھ سکے اور پائیدار اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پہلی گنتی میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرتا ہے تو دونوں امیدواروں کے درمیان دوسرا مرحلہ ہوگا جس میں دیگر امیدواروں کے ترجیحی ووٹ دوبارہ تقسیم کیے جائیں گے۔

Comments

Comments are closed.