BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.18%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.11 Decreased By ▼ -1.17 (-3.32%)
CNERGY 12.84 Decreased By ▼ -0.29 (-2.21%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 213.02 Decreased By ▼ -3.99 (-1.84%)
FABL 98.99 Decreased By ▼ -0.96 (-0.96%)
FCCL 57.66 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.34%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.56 (-2.3%)
HBL 333.71 Increased By ▲ 7.50 (2.3%)
HUBC 211.43 Decreased By ▼ -1.99 (-0.93%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.29 (-2.68%)
KEL 7.48 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.29 Decreased By ▼ -3.49 (-1.08%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.72%)
PIOC 271.73 Decreased By ▼ -4.46 (-1.61%)
PPL 228.84 Decreased By ▼ -0.63 (-0.27%)
PRL 71.02 Increased By ▲ 0.91 (1.3%)
SNGP 102.22 Decreased By ▼ -1.44 (-1.39%)
SSGC 26.68 Decreased By ▼ -0.43 (-1.59%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 15.11 Decreased By ▼ -0.57 (-3.64%)
TRG 59.84 Decreased By ▼ -1.29 (-2.11%)
UNITY 12.05 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بنگلہ دیش میں پیر کو کرفیو کے باوجود امن و امان کی صورتحال برقرار رہی لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کے لیے کچھ کوٹہ ختم کیے جانے کے ایک دن بعد بھی ٹیلی کام سروسز متاثر رہیں۔

ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو بحال کیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 139 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم اتوار کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 93 فیصد سرکاری ملازمتیں میرٹ کی بنیاد پر مختص کی جائیں جبکہ اس سے قبل 56 فیصد کوٹہ فریڈم فائٹرز کے اہل خانہ، خواتین اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے مختص کیا جاتا تھا۔

پیر کی صبح تشدد یا احتجاج کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ دوپہر میں 3 گھنٹے کے لئے کرفیو میں نرمی کی جائے گی تاکہ لوگ ضروری اشیاء خرید سکیں۔

طلبہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ حراست میں لیے گئے احتجاجی رہنماؤں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے حکومت سے کرفیو ہٹانے اور بدھ سے بند یونیورسٹیوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مطالبات پر عمل کرنے کے لئے حکومت کو 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

گزشتہ ہفتے مظاہروں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور ساؤنڈ گرنیڈ کا استعمال کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بے چینی کی وجہ نجی شعبے میں ملازمتوں کی جمود اور نوجوانوں کی بے روزگاری کی بلند شرح ہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں باقاعدگی سے تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مراعات زیادہ پرکشش ہو گئی ہیں۔

رواں سال مسلسل چوتھی بار حلف اٹھانے والی حسینہ واجد پر ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اظہار رائے کی آزادی پر کریک ڈاؤن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Comments

Comments are closed.