BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.44%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 56.48 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.78 Decreased By ▼ -0.20 (-1.54%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.61 (3.49%)
DGKC 188.89 Increased By ▲ 1.67 (0.89%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.68 Increased By ▲ 0.03 (0.06%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.85 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.50 Increased By ▲ 0.54 (0.27%)
HUMNL 9.73 Decreased By ▼ -0.12 (-1.22%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 91.40 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
OGDC 315.00 Increased By ▲ 1.61 (0.51%)
PAEL 35.00 Decreased By ▼ -0.24 (-0.68%)
PIBTL 14.29 Decreased By ▼ -0.42 (-2.86%)
PIOC 238.00 Decreased By ▼ -1.62 (-0.68%)
PPL 220.59 Decreased By ▼ -0.77 (-0.35%)
PRL 90.30 Decreased By ▼ -0.92 (-1.01%)
SNGP 91.15 Increased By ▲ 0.28 (0.31%)
SSGC 23.40 Increased By ▲ 0.10 (0.43%)
TELE 7.44 Decreased By ▼ -0.17 (-2.23%)
TPLP 12.15 Decreased By ▼ -0.41 (-3.26%)
TRG 54.64 Decreased By ▼ -1.15 (-2.06%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

مالی سال 2023-24 میں کمپیوٹر سروسز اور کال سینٹر سروسز پر مشتمل ملک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق سروسز (آئی ٹی ای ایس) کی برآمدی ترسیلات زر 3.223 ارب ڈالر کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جو 24 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے ۔ مالی سال مالی سال 2022-23 میں آئی ٹی ای ایس کی برآمدی ترسیلات زر 2.596 ارب ڈالر تھی۔

سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون 2024 میں آئی ٹی ای ایس کی برآمدات کی ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر تقریبا 11.3 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو مئی 2024 میں 332 ملین ڈالر کے مقابلے میں 298 ملین ڈالر رہی۔

سال بہ سال کی بنیاد پر اس شعبے کی برآمدی ترسیلات زر میں جون 2023 ء کے 225 ملین ڈالر کے مقابلے میں 32 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز سمیت آئی سی ٹی برآمدات کی ترسیلات زر 2.596 ارب ڈالر رہیں جو مالی سال 2021-22 کے 2.619 ارب ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 2022-23 میں تقریبا ایک فیصد کی منفی شرح ہے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے کہا کہ وزارت اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ساتھ قریبی تعاون سے بین الاقوامی کاروباری ترقی کو تیز کرنے اور کاروبار میں آسانی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں آئی ٹی صنعت کا اعتماد بڑھا ہے۔

وزارت نے متعدد رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جن میں پالیسیوں میں عدم مطابقت، ٹیکس کے مسائل اور بینکنگ رکاوٹیں شامل ہیں جو ملکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی تقریبا 15 ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری اس وقت تقریبا 2.6 بلین ڈالر کی سالانہ برآمدات پر مشتمل ہے ۔ تاہم، اگلے پانچ سال میں 15 بلین امریکی ڈالر کی سالانہ برآمدات کے پرعزم ہدف کو حاصل کرنے کے لئے، کم از کم 200،000 ماہر اور خصوصی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو شامل کرنا ضروری ہے ۔

بینٹلے، سکلم، آئی بی ایم، مینٹور گرافکس، ایس اینڈ پی گلوبل، سمینٹیک، تیرا ڈیٹا اور وی ایم ویئر جیسے گلوبل انٹرپرائزز سمیت متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں گلوبل کنسلٹنگ سروسز سینٹرز، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سہولیات اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) سپورٹ سروسز سینٹرز قائم کیے ہیں، اس طرح باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تنخواہوں پر روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پاکستان کے سافٹ امیج کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری میں انگریزی بولنے والے 600,000 سے زائد آئی ٹی اور بی پی او پروفیشنلز موجود ہیں جو موجودہ اور ابھرتی ہوئی آئی ٹی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.