ترقی کس کے لیے؟ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات پر ازسرنو غور
- حکومتیں سیاسی تشہیر اور نمایاں کارکردگی دکھانے کے لیے منصوبے تعمیر کرتی ہیں، لیکن حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہ اثاثے طویل مدت تک عوام کو حقیقی فوائد پہنچائیں اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں مؤثر بہتری لائیں
پاکستان کی سیاسی لغت میں ترقی ان الفاظ میں سے ایک ہے جو سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ حکومتیں سڑکوں، بجلی کے منصوبوں، اسپتالوں، اسکولوں، ٹرانسپورٹ کے نظام اور دیگر عوامی منصوبوں کو پیش رفت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی سرمایہ کاری یقیناً ضروری ہے، تاہم ایک سوال پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے: کیا حکومت جس پیمانے سے ترقی کا جائزہ لیتی ہے، وہ اس انداز سے مطابقت بھی رکھتا ہے جس طرح عام لوگ اسے اپنی زندگیوں میں محسوس کرتے ہیں؟
شہریوں کے لیے ترقی محض بجٹ میں رقم مختص کرنے یا کسی منصوبے کی تکمیل کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا بجلی قابلِ برداشت نرخوں پر دستیاب ہے، بچوں کو معیاری تعلیم مل رہی ہے، صحت کی سہولتوں تک رسائی ممکن ہے، صاف پانی میسر ہے اور عوامی بنیادی ڈھانچہ روزمرہ زندگی کو بہتر بنا رہا ہے یا نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، معاملہ بنیادی ڈھانچے اور انسانی ترقی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں۔ پاکستان کو دونوں کی ضرورت ہے۔ زیادہ اہم فرق منصوبوں پر مرکوز ترقی اور نتائج پر مبنی ترقی کے درمیان ہے۔
حکومتیں فطری طور پر ان چیزوں کی نگرانی کرتی ہیں جنہیں ریکارڈ کیا جاسکتا ہے: مختص کی گئی رقم، منظور شدہ اسکیمیں، تعمیر ہونے والی سڑکوں کے کلومیٹر، نصب شدہ میگاواٹ اور مکمل ہونے والی سہولتیں۔ یہ سرگرمیوں کی پیمائش کے مفید پیمانے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ انہیں ترقی کا پیمانہ بھی سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر، اسکول کی عمارت مکمل ہونا ایک نتیجہ خیز سرگرمی ہے، لیکن بچے واقعی کچھ سیکھ رہے ہیں یا نہیں، یہ اصل نتیجہ ہے۔ اسپتال کی عمارت بن جانا ایک پیش رفت ہے، جبکہ مؤثر طبی سہولتوں کی فراہمی اصل مقصد ہے۔ اسی طرح سڑک کی تعمیر ایک سرگرمی ہے، جبکہ آمدورفت میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ اس کے مطلوبہ نتائج ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتیں یہ سمجھنے میں ناکام کیوں رہتی ہیں کہ پاکستان میں عموماً جس انداز سے ترقیاتی کام کیے جاتے ہیں، وہ محض رسمی کارروائی ہوتے ہیں اور شاید ان کا مقصد صرف یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حکومت کچھ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، نمایاں منصوبوں کے سیاسی فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ان کا افتتاح کیا جاسکتا ہے اور انہیں کسی مخصوص حکومت کے دورِ اقتدار سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس تدریسی معیار، ضابطہ کاری، دیکھ بھال اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری کو نمایاں کرنا مشکل ہوتا ہے، جبکہ ان کے نتائج سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی ترجیح ایسے منصوبوں کو دی جاسکتی ہے جنہیں تعمیر کرکے دکھایا جاسکے، جبکہ ان اصلاحات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جن کے فوائد بتدریج یا طویل عرصے میں سامنے آتے ہیں۔
اس کی ایک موزوں مثال، بلکہ ایک تضاد، پاکستان کی شاندار موٹرویز ہیں، جو آبادی کے ایک نہایت محدود حصے کی ضروریات پوری کرتی ہیں، لیکن ان پر قومی وسائل کی بھاری مقدار خرچ کی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے صرف تقریباً 10 سے 17 فیصد گھرانوں یا شہری آبادی کے پاس نجی گاڑی ہے یا انہیں اس تک رسائی حاصل ہے، جبکہ تیز رفتار موٹرویز پر سفر کے لیے بنیادی طور پر یہی گاڑیاں موزوں اور قابلِ اجازت ہیں۔
اس کے برعکس، اگرچہ وسیع گنجائش والی موٹرویز اور قومی شاہراہیں مجموعی سڑکوں کے نیٹ ورک کا ایک چھوٹا حصہ، تقریباً 3.6 سے 7 فیصد، بنتی ہیں، تاہم ان پر بین شہری مال برداری اور طویل فاصلے کے مسافروں کی آمدورفت کا بڑا بوجھ ہے۔ یہ ضروریات اچھی طرح برقرار رکھی گئی عام شاہراہوں کے ذریعے بھی باآسانی پوری کی جاسکتی تھیں، بشرطیکہ ان شاہراہوں کو نظرانداز نہ کیا گیا ہوتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طویل فاصلے کے مسافروں کو موٹرویز کے استعمال پر اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے، جو بعض اوقات صوبائی سڑکوں کے ذریعے سفر کے مقابلے میں دوگنا تک ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اس سہولت سے بھی وہی طبقہ زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو آبادی کی اکثریت پر مشتمل نہیں۔
یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ موٹرویز کی تعمیر کے باعث صوبائی سڑکوں اور رابطہ شاہراہوں کو بہتر بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر بھارت نے ترقی کے لیے موٹرویز کو واحد حل نہیں سمجھا اور عمومی طور پر ایسے اخراجات سے گریز کیا ہے۔ سندھ بھی اپنی ایسی پالیسی پیش کرتا ہے جس میں صوبائی سڑکیں عوامی ضروریات پر مرکوز ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی دیکھ بھال پر انتہائی کم توجہ دیے جانے کے باعث صورت حال بڑی حد تک ابتر ہوچکی ہے۔
ان تمام خامیوں کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر غیر ضروری ہے۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی اثاثے یا منصوبے کی تکمیل ہی اس بات کا کافی ثبوت سمجھ لی جائے کہ ترقی کا مقصد حاصل ہوگیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا باضابطہ ترقیاتی ڈھانچہ پہلے ہی اس فرق کو تسلیم کرتا ہے، لیکن یہ اصول محض دستاویزات تک محدود ہے۔
پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران نگرانی اور تکمیل کے بعد ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ لاگت والے منصوبوں کے لیے تکمیل کے پانچ سال کے اندر آزادانہ طور پر اثرات کا جائزہ لینے کی شرط بھی موجود ہے۔ قانون میں عوامی بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور سرکاری اثاثوں کے مؤثر استعمال کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
پلاننگ کمیشن کے منصوبہ جاتی طریقۂ کار میں اس مقصد کے لیے انتظامی فریم ورک موجود ہے۔ پی سی فور میں منصوبے کی تکمیل کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، جبکہ پی سی فائیو کے ذریعے تکمیل کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت متعلقہ اداروں کو پانچ سال تک سالانہ پی سی فائیو رپورٹس جمع کرانا ہوتی ہیں، جن میں حقیقی معاشی اور سماجی فوائد، عملی کارکردگی اور دیکھ بھال جیسے امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس لیے بنیادی کمزوری قانون یا طریقۂ کار کی عدم موجودگی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان انتظامات کو عملی جائزوں اور بعد کے فیصلوں میں کتنی مستقل مزاجی سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک سنگین خلا موجود ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے 2023ء کے پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ اسیسمنٹ (پی آئی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں نگرانی کا ایک منظم نظام اور منصوبوں کی تکمیل کے بعد جائزے کے باضابطہ انتظامات موجود تھے، لیکن بہت کم منصوبوں کی تکمیل کے بعد رپورٹنگ کی گئی اور بڑے سرمایہ جاتی منصوبوں کے جائزے بھی شاذونادر ہی لیے گئے۔
اس جائزے میں قومی ترقیاتی اہداف اور انفرادی عوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے درمیان کمزور تعلق کی بھی نشاندہی کی گئی، جن میں سے بعض کو ممکنہ طور پر خالصتاً سیاسی بنیادوں پر خصوصی رعایتیں دے کر منظور کیا گیا تھا۔ ان نتائج سے اس وقت موجود باضابطہ نظام اور اس پر عمل درآمد کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی کاموں کی نگرانی اور ترقیاتی نتائج کا جائزہ لینا دو الگ سرگرمیاں ہیں۔ اخراجات، خریداری کے عمل اور تعمیراتی پیش رفت سے حکومت کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کوئی اثاثہ یا منصوبہ فراہم کیا جارہا ہے یا نہیں۔ تاہم ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس منصوبے نے وہ معاشی یا سماجی فائدہ بھی پیدا کیا ہے جس کی بنیاد پر اس میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
پاکستان کا بجلی کا شعبہ اس بات کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ یہ فرق کیوں اہم ہے۔ بجلی گھر، ترسیلی لائنیں، گرڈ اسٹیشن اور تقسیم کار نیٹ ورک بھاری سرمایہ کاری اور انجینئرنگ کی صلاحیت کے متقاضی ہیں۔ اس بنیادی ڈھانچے کے بغیر بجلی پیدا کرنا اور صارفین تک پہنچانا ممکن نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ کب حقیقی ترقی میں تبدیل ہوتا ہے؟ یہ نہایت اہم سوال ہے۔
بلاشبہ، بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم اضافی پیداواری صلاحیت کی ترقیاتی افادیت اس وقت تک محدود رہتی ہے جب تک بجلی کو قابلِ اعتماد انداز میں ترسیل اور تقسیم کے ذریعے صارفین تک نہ پہنچایا جاسکے۔ بجلی کی فراہمی قابلِ اعتماد ہونے کے باوجود اس کے معاشی فوائد محدود رہتے ہیں، اگر گھرانے اس کے نرخ برداشت نہ کرسکیں یا صنعت اسے مسابقتی بنیادوں پر استعمال نہ کرسکے۔ یہ تمام صورت حال خاص طور پر آئی پی پیز کے معاملے میں شدید تشویش کا باعث ہے، جہاں بعد ازاں سرکاری منصوبوں کے لیے بھی اسی طریقۂ کار کو اپنانے کی پالیسی بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
اس کے نتیجے میں گنجائش کے بھاری چارجز کے باعث بجلی کے نرخ بھی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے مجوزہ 4,500 میگاواٹ کے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کو حال ہی میں روک دیا جانا اس کی ایک مثال ہے۔ تربیلا اور منگلا ڈیموں کے ساتھ قائم کیے گئے سابقہ بجلی گھروں کے برعکس، جو بنیادی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے تھے، دیامر بھاشا ڈیم کا بجلی گھر مکمل طور پر آئی پی پی ماڈل کے تحت تعمیر کیا جانا تھا، جس سے انتہائی مہنگی بجلی پیدا ہوتی۔
دوسری جانب، اگر دیامر بھاشا ڈیم کے اس بڑے پن بجلی منصوبے کے لیے قومی بجٹ سے مالی وسائل فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی تو اس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار قومی گرڈ کو مثبت فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ یہ صورت حال ایک اور اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ کن ترقیاتی منصوبوں پر سرکاری وسائل خرچ کیے جانے چاہئیں اور کن منصوبوں کو تجارتی بنیادوں پر مالی اعانت فراہم کرکے ان کی لاگت بالآخر صرف عوام سے وصول کی جانی چاہیے۔ افسوس ناک طور پر جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں عموماً ایسے منصوبوں کو ترجیح دیتی ہیں جن کی ادائیگی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ایسا عموماً اس لیے ہوتا ہے تاکہ صرف سیاسی ترجیحات کے تحت اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جاسکے۔
مندرجہ بالا صورت حال سے واضح ہوتا ہے کہ بنیادی ڈھانچہ بھی محصولات، خریداری کے فیصلوں، مارکیٹ کے قواعد، منصوبہ بندی، ضابطہ جاتی معیارات اور جواب دہی کے ادارہ جاتی نظام کے اندر کام کرتا ہے۔ اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: طبعی بنیادی ڈھانچہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جبکہ ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچہ طے کرتا ہے کہ اس صلاحیت کو عوامی فائدے میں کتنی مؤثر طریقے سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا انجینئرنگ اور ضابطہ کاری ترقی کے ایک ہی سوال کے دو پہلو ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے بہترین اثاثہ بھی توقع سے کم فائدہ دے سکتا ہے، اگر اس کے گرد موجود انتظامی، مالی یا ضابطہ جاتی بندوبست اس کے مؤثر استعمال میں رکاوٹ بنیں۔ چنانچہ توانائی کے کسی منصوبے کی تکمیل کے بعد سنجیدہ جائزے میں ان مفروضوں کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جن کی بنیاد پر اس کی منظوری دی گئی تھی۔
کیا بجلی کی طلب کے بارے میں لگائے گئے تخمینے درست ثابت ہوئے؟ کیا اردگرد کا نیٹ ورک اس منصوبے کی گنجائش کو سنبھالنے کے قابل تھا؟ کیا منصوبے نے توقعات کے مطابق کارکردگی دکھائی؟ حقیقی اخراجات اور ابتدائی تخمینوں میں کتنا فرق تھا؟ صارفین اور پیداواری شعبوں کو اس سے کیا فوائد حاصل ہوئے؟ بدقسمتی سے پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اس نوعیت کا خود احتسابی جائزہ مکمل طور پر غائب رہا ہے اور یہ خرابیاں بدستور جاری ہیں۔
یہی اصول دیگر شعبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسکول کی عمارت سے تعلیمی نتائج حاصل کرنے کے لیے اساتذہ، نگرانی اور جانچ کا نظام ضروری ہے۔ اسپتال کی عمارت کو صحت کی سہولت میں تبدیل کرنے کے لیے عملہ، آلات اور طبی سامان کی قابلِ اعتماد فراہمی درکار ہے۔ پانی کی اسکیم سے محفوظ پانی کی فراہمی کے لیے دیکھ بھال اور معیار کی نگرانی ضروری ہے۔ اسی طرح کوئی ڈیجیٹل پلیٹ فارم اسی وقت عوامی فائدہ پیدا کرتا ہے جب وہ شہریوں کے لیے سرکاری اداروں سے معاملات کرنے میں لگنے والا وقت، لاگت اور دشواری کم کرے۔
لہٰذا ترقیاتی منصوبہ بندی میں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکومت کیا تعمیر کرنا چاہتی ہے، بلکہ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اس تعمیر کے نتیجے میں کیا تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ بدقسمتی سے یہ بنیادی تقاضا بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
اس درست طرزِ عمل کو شہریوں کے لیے نتائج پر مبنی ایک سادہ جانچ کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ عوامی وسائل مختص کرنے سے پہلے حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کس مسئلے کو حل کیا جارہا ہے، مجوزہ اقدام کی حمایت میں کیا شواہد موجود ہیں، اس سے کس قابلِ پیمائش فائدے کی توقع ہے اور سرمایہ کاری کس طریقے سے یہ فائدہ فراہم کرے گی۔ مختلف شعبوں کے لیے پیمانے بھی مختلف ہوں گے۔ بجلی کے شعبے میں ان میں فراہمی کا تسلسل، قابلِ برداشت نرخ اور پیداواری استعمال شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ سڑکوں کے لیے سفر کے وقت میں کمی اور آسان رابطہ بنیادی پیمانے ہوں گے۔
تعلیم کے شعبے میں مقصد صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی حقیقی تعلیم و تربیت ہونا چاہیے۔ اصول یہی ہے کہ اخراجات کے جواز کے طور پر پیش کیے گئے ابتدائی مسئلے کی روشنی میں آخرکار منصوبے کے نتائج کا جائزہ لیا جائے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے پاس مالی وسائل کی گنجائش محدود ہے۔ آئی ایم ایف کے 2023ء کے پی آئی ایم اے جائزے کے مطابق پاکستان میں سرکاری سرمایہ کاری کی کارکردگی کا فرق تقریباً 38 فیصد تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرکاری اخراجات کا 38 فیصد ضائع ہوجاتا ہے، بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود سرمایہ جاتی اثاثوں کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچے تک رسائی اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔ اس لیے سرکاری سرمایہ کاری سے زیادہ عوامی فائدہ حاصل کرنا محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ مالیاتی ضرورت بھی ہے۔
چنانچہ ترقی کسی منصوبے کی تکمیل پر ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اصل میں تو اسی مرحلے پر یہ سوال اٹھانا شروع کرنا چاہیے کہ آیا حقیقی ترقی بھی ہوئی ہے یا نہیں۔
یہی بنیادی مسئلہ ہے کہ آیا سگنل فری شہری راہداری کو جامع نکاسی آب کے منصوبے یا خستہ حال تعلیمی نظام کی بحالی پر ترجیح دی جانی چاہیے، یا پھر ایسے ستونوں والی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جائیں جن سے سابقہ کمیونسٹ دور کی نمائشی عمارتوں کی جھلک ملتی ہو۔ اسی طرح یہ بھی سوال ہے کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال کے مقابلے میں وائٹ ہاؤس میں ایک وسیع الشان ضیافت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش کو ترقیاتی ترجیحات کی موزوں مثال سمجھا جانا چاہیے۔
کیا کشادہ شاہراہیں ترقی کی علامت ہیں یا کچی آبادیوں کو رہنے کے قابل علاقوں میں تبدیل کرنا اصل ترقی ہے؟ غالباً ان سوالات کو نظرانداز کرنے ہی کی وجہ سے پاکستان کے بیشتر ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتے ہیں اور ان پر بھاری رقوم بے دریغ خرچ کی جاتی ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اشرافیہ اپنی ایک الگ خیالی دنیا میں رہتی ہے، جس کا عوام کی حقیقی زندگیوں اور ان کی مشکلات سے کوئی تعلق نہیں۔ عوام کی حالت یہ ہے کہ اب ان میں سے تقریباً 38 فیصد کے خطِ غربت کے آس پاس زندگی گزارنے کا بتایا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے جائزے لینا ترقیاتی انتظامیہ کا مستقل حصہ بن پائیں گے اور کیا ان جائزوں کے نتائج مستقبل کی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں گے؟ کیا مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے منصوبوں کو ترجیحی فہرست سے خارج کیا جاسکے گا؟
اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ ترقی محض وہ نہیں ہونی چاہیے جس کی خواہش یا فیصلہ اشرافیہ کرے۔ یہ ایک کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے درست انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں اگرچہ بجٹ، منصوبوں اور اثاثوں کو دیکھتی ہیں، لیکن شہری خدمات، مواقع، قیمتوں، سہولتوں کے تسلسل اور معیارِ زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔ دونوں زاویے اہم ہیں، لیکن ان کے درمیان تعلق قائم ہونا چاہیے۔ پاکستان کو سڑکوں، بجلی کے نیٹ ورک، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت بدستور رہے گی۔
سوال یہ نہیں کہ ان میں سے کوئی منصوبہ تعمیر ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی تکمیل کے بعد کارکردگی ان کی افادیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شہری پی سی ون، بجٹ میں مختص رقم یا کسی منصوبے کی افتتاحی تقریب کا تجربہ نہیں کرتے۔ وہ کسی سہولت، موقع، لاگت یا اس کی عدم دستیابی کو محسوس کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد بظاہر ان عوامل کو نہیں بنایا جاتا۔