✕
پاکستان

وفاقی وزیر پٹرولیم کی زیر صدارت اجلاس، ترک سیسمک جہاز کی آمد کے حوالے سے تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ

  • ترک پٹرولیم آف شور کمپنی کا سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر 2026 کے درمیان کراچی آمد متوقع
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ترک سیسمک جہاز کی آمد کے حوالے سے تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں جہاز کی آمد،سکیورٹی، سمندری اور آپریشنل انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک پٹرولیم آف شور کمپنی (ٹی پی او سی) کا سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر 2026 کے درمیان کراچی آمد متوقع ہے جس سے تقریباً دو دہائیوں بعد پاکستان میں آف شور تلاش کی سرگرمیوں کی بحالی کا آغاز ہو گا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع کو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بالخصوص مکہ معاہدہ پر دستخط کے بعدایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز کی آمد دونوں برادر ممالک کی دیرینہ دوستی اور تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دیرینہ دوستی اور تعاون کے ایک نئے باب کی عکاس ہے اور وہ کراچی آمد پر ذاتی طور پر جہاز کا استقبال کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آف شور تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے میں ترکیہ کو مکمل معاونت فراہم کرے گا۔

علی پرویز ملک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آف شور تلاش کے منصوبے میں مکمل سہولت فراہم کرنے اور آپریشنز کے کامیاب آغاز کے لئے تمام ضروری انتظامات یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

انہوں نے ترک وفد کو پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مل کر ایک ایسی نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کام کریں گے جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔

سیکرٹری پٹرولیم نے بھی ترک جہاز کی متوقع آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن اس کے پاکستان آمد پر استقبال کا بے چینی سے منتظر ہے۔انہوں نے انتظامات کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں اور فریقین کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹی پی او سی کے پراجیکٹ منیجر نے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تعاون اور معاونت کو سراہتے ہوئے منصوبے پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کو پاکستانی حکام کی جانب سے حوصلہ افزا تعاون حاصل ہوا ہے اور انہیں تلاش کی سرگرمیوں کے کامیاب نتائج کی امید ہے۔ اجلاس میں جہاز کی آمد اور آف شور تلاش کی مہم کے آغاز کے لئے آپریشنل، لاجسٹک، بحری، سکیورٹی اور بین المحکمہ جاتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کو بروقت سہولت کاری یقینی بنانے اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں ٹی پی او سی کے پراجیکٹ منیجر، سیکرٹری پٹرولیم، ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم، ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشنز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹرز سمیت وزارت خارجہ، نیشنل ہائیڈروگرافک آفس پاکستان،کراچی، وزارت بحری امور، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پورٹس اینڈ شپنگ کراچی کے نمائندوں نے شرکت کی۔