او جی ڈی سی کو بارگزئی میں تیل کے ذخائر سے پیداوار حاصل کرنے میں مشکلات
- راجیاں آئل فیلڈ سے بھی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت اجاگر کردی گئی
پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو بارگزئی آئل فیلڈ کی مکمل پیداواری صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق او جی ڈی سی انتظامیہ نے مالی سال 2026 اور پہلی سہ ماہی 2027 کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ کمپنی بارگزئی میں مزید کنویں کھودنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اضافی پیداوار کے لیے رکاوٹیں دور کرکے لاشاری کی سہولیات کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
انتظامیہ نے راجیاں آئل فیلڈ سے روزانہ 8 ہزار سے 10 ہزار بیرل تیل کی پیداوار کی صلاحیت بھی ظاہر کی، تاہم بھاری خام تیل (11 سے 12 ڈگری اے پی آئی) کی پیداوار بڑھانے کے لیے سپلائرز اور ریفائنریز کے ساتھ انتظامات کرنا ہوں گے۔ کمپنی کو آئندہ ڈیڑھ سال میں پیش رفت کی توقع ہے۔
او جی ڈی سی نے آئندہ دو سال کے دوران سالانہ 100 ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔ کمپنی نے قدرتی طور پر پیداوار میں 16 فیصد کمی، آپریشنل مشکلات اور پائپ لائن مسائل کے باوجود مالی سال 2027 کے لیے تیل و گیس کی پیداوار میں سالانہ 8 سے 10 فیصد اضافے کا ہدف برقرار رکھا ہے۔
کمپنی جیوتھرمل توانائی اور معدنیات سمیت متبادل شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واہید بخش-01 جیوتھرمل کنویں کی ابتدائی جانچ میں لیتھیم کی مقدار عالمی معیار سے زیادہ سامنے آئی ہے، جس کے بعد اس کی تجارتی بنیادوں پر پیداوار کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں انسٹیک کے ساتھ شراکت داری بھی کی گئی ہے اور تین ماہ میں نتائج متوقع ہیں۔